منڈگوڈ میں کورونا کے دو معاملات پوزیٹو آنے کےبعد بڈی گیری اور شیڈلاگُنڈی دیہات مکمل لاک ڈاون؛ کنٹنمنٹ زون قرار

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 19th May 2020, 1:28 AM | ساحلی خبریں | ریاستی خبریں |

منڈگوڈ 18/مئی (ایس او نیوز/نذیر تاڈپتری) آج منڈگوڈ کے دو لوگوں کی کورونا رپورٹ پوزیٹو آنے کے بعد تعلقہ کے دو دیہاتوں بڈی گیری اور شیڈلاگُنڈی  کو کنٹیمنٹ زون میں تبدیل کیا گیا ہے ، جس کے ساتھ دونوں دیہاتوں کو سیل ڈاون کردیا گیا ہے۔ اس بات کی اطلاع سرسی سب ڈیویژن کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر ایشور اُلاگڈّی نے دی۔

پیر کو تحصیلدار دفتر میں بلائی گئی آفسران کی میٹنگ کے بعد اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسسنٹ کمشنر نے بتایا کہ منڈگوڈ میں دو لوگوں کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آنے پر کسی کو خوف میں مبتلا ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ  دوسرے اضلاع یا دوسری ریاست سے اگر کوئی منڈگوڈ میں داخل ہوتا ہے تو عوام کو چاہئے کہ وہ فوری  تعلقہ اسپتال میں خبر کریں۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے لوگ دوسری جگہوں سے  کسی بھی پاس یا منظوری کے بغیر بھی آئے ہوں گے یا آسکتے ہیں، ایسے لوگوں کو بھی ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ اُنہیں چاہئے کہ وہ  بلا خوف اسپتال پہنچ کر محکمہ صحت کے آفسران سے اپنی جانچ کرائیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسری ریاست سے اگر کوئی منڈگوڈ میں آتا ہے تو اُنہیں چوہ دنوں کے کورنٹائن میں رکھا جائے گا، مزید کہا کہ  اس بات کی اطلاع تمام لوگوں تک  پہنچانی چاہئے اور دیہاتوں  میں کورونا کو لے کر ایک بیداری مہم بھی چلانی چاہئے ۔

اسسٹنٹ کمشنر نے کن دو لوگوں کی رپورٹ  کورونا پوزیٹو  آئی ہے، اُس کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ  منڈگوڈ تعلقہ کے بڈیّ گیری دیہات کے ایک خاندان کے چار لوگ  اور شیڈل گُنڈی دیہات کے دو لوگ  مہاراشٹرا سے  منڈگوڈ پہنچے تھے، یہاں آتے ہی ان کے تھوک  کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ کئے گئے تھے۔ ان میں سے  آج پیر کو  بڈی گیری دیہات کے آٹھ سالہ لڑکے  کی رپورٹ اور شیڈلا گُنڈی دیہات کے 24 سالہ نوجوان کی رپورٹ کورونا پوزیٹو آئی ہے۔   اے سی نے بتایا کہ یہ لوگ  چونکہ منڈگوڈ  پہنچنے کے بعد اپنے گھر وں  پربھی گئے تھے اور گھروالوں سے بھی ملے تھے، اس لئے دونوں  کورونا سے متاثرہ خاندانوں کے افراد کو کورنٹائن کیا گیا ہے اور تماموں کے تھوک اور خون کے سیمپل جانچ کے لئے روانہ کردئے گئے ہیں۔ اسی طرح دونوں دیہاتوں کو بھی مکمل طور پر سیل ڈاون کیا گیا ہے اور عوام الناس سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

اے سی نے بتایا کہ جن دو علاقوں کو کنٹیمنٹ زون میں تبدیل کیا گیا ہے، وہاں لوگوں کو گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں ہوگی، البتہ کنٹیمنٹ زون کے علاقوں میں  ضروری اشیائے خوردنی اور غریب خاندانوں کو  کھانے پینے کا بندوبست کیا گیا ہے۔

اے سی کے بعد سرسی کے ڈی وائی ایس پی جے ٹی نائک نے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ  باہرکسی بھی  علاقہ سے اگر کوئی منڈگوڈ میں آتا ہے تو پھر اپنی جانچ کرانی چاہئے اور  سماجی دوری بنائے رکھنا چاہئے۔ اسی طرح  چار، پانچ لوگوں کو ایک ساتھ جمع ہونے کی اجازت نہیں ہے اور اگر  ایسا کوئی کرتا ہے  تو پھر  اُس کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔

عوام اب اس بات کو لے کر تشویش میں مبتلا ہیں کہ ایک آٹھ سالہ چھوٹا سا لڑکا اپنے والدین یا قریبی رشتہ داروں کے بغیر  اکیلا اسپتال میں کیسے رہےگا، اسپتال میں کورنٹائن کے دوران   اس کی دیکھ ریکھ کیسے ہوگی ؟

اس موقع پر تحصیلدار شری دھر مُندلمنے، تعلقہ پنچایت ایکزی کوٹیو آفسر پروین کٹی، پولس انسپکٹر ڈاکٹر شیوانند چلوادی، تعلقہ ہیلتھ آفسر ڈاکٹر ایچ ایف اینگلے، یلاپور تعلقہ ہیلتھ آفسر ڈاکٹر نریندرا پوار سمیت کافی دیگرآفسران بھی موجود تھے۔

ایک نظر اس پر بھی

اُڈپی ضلع میں کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لئے کنداپور اور بیندور میں کووِڈ اسپتالوں کا قیام۔ ڈپٹی کمشنر جگدیش کا اعلان

ضلع اُڈپی کے ڈپٹی کمشنر جی جگدیش نے بتایا کہ ضلع میں کووِڈ 19سے متاثرین کی تعداد میں روزبرو ز اضافہ کو دیکھتے ہوئے کنداپور اور بیندو ر میں 400 بستروں کی سہولت کے ساتھ کووِ ڈ اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کرناٹک میں 25 جون سے شروع ہورہے ہیں ایس ایس ایل سی امتحانات؛ ہر امتحان گاہ میں صرف 18 طلبا کو بیٹھنے کی ہوگی سہولت؛ ایک گھنٹہ پہلے امتحان گاہ پہنچنا ضروری

کورونا وباء کے بعد ملک بھر میں لگے لاک ڈاون کے بعد اب ریاست کرناٹک میں 25 جون سے ایس ایس ایل سی امتحانات شروع ہورہے ہیں جو  4 جولائی کو اختتام کو پہنچیں گے۔ امتحانات کو منعقد کرنے کے لئے ہرممکن احتیاطی اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں تاکہ طلبا کویڈ سے  محفوظ رہیں،  طلبا کے درمیان ...

کوویڈ۔ 19 : کمس اسپتال ہبلی میں ریاست کا پہلا پلازمہ تھیراپی تجربہ کامیاب ؛ بنگلور میں تجربہ ناکام ہونے کے بعد ہبلی ڈاکٹروں کو ملی زبردست کامیابی

ورونا وائرس وبا کی وجہ سے اس وقت پوری دنیا جوجھ رہی ہے۔ اس کے معاملات میں دن بہ دن اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ ہر کوئی چاہتے  یا  نا چاہتے ہوئے بھی اس خطرے کے ساتھ زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے۔ کیونکہ پوری دنیا بھر کے ممالک بھی اس کا ٹیکہ دریافت کرنے سے اب تک قاصر رہے ہیں۔

کرناٹک میں کورونا کے 24 گھنٹوں میں 267 نئے معاملات ، داونگیرے میں مریض کی موت سے مرنے والوں کی تعداد 53

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران منگل کی شام 5 بجے تک ریاست میں 267 نئے کو رونا مریض پائے جانے سے ریاست میں کووڈ۔19 سے متاثر مریضوں کی تعداد بڑھ کر 2494 تک پہنچ گئی اور داونگیرے میں مزید ایک مریض کے ریاست میں فوت ہونے سے ریاست میں اس وبائ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 53 ہوگئی۔

اُڈپی ضلع میں کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات سے نمٹنے کے لئے کنداپور اور بیندور میں کووِڈ اسپتالوں کا قیام۔ ڈپٹی کمشنر جگدیش کا اعلان

ضلع اُڈپی کے ڈپٹی کمشنر جی جگدیش نے بتایا کہ ضلع میں کووِڈ 19سے متاثرین کی تعداد میں روزبرو ز اضافہ کو دیکھتے ہوئے کنداپور اور بیندو ر میں 400 بستروں کی سہولت کے ساتھ کووِ ڈ اسپتال قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔