مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی 2008کے بعد ہونے والے بم دھماکوں اور قتل کااصل سرغنہ۔ مہاراشٹرا اے ٹی ایس کا خلاصہ

Source: S.O. News Service | By I.G. Bhatkali | Published on 3rd May 2019, 5:45 PM | ملکی خبریں | اسپیشل رپورٹس |

ممبئی 3/مئی (ایس او نیوز) مہاراشٹرا اینٹی ٹیرورازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کا کہنا ہے کہ سن  2008 کے بعد ہونے والے بہت سارے بم دھماکوں اور پنسارے، دابولکر، کلبرگی اور گوری لنکیش جیسے ادیبوں اور دانشوروں کے قتل کا سرغنہ اورنگ آباد کا رہنے والا مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ہے۔

معروف انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس نے  مہاراشٹرا اے ٹی ایس کے حوالےسے رپورٹ دی ہے کہ  بم دھماکوں اور قتل کے اصل ملزم کے طور پر مُرلی کا نام اس وقت سامنے آیا جب اگست 2018میں اے ٹی ایس نے ممبئی کے نالاسوپارا میں سناتن سنستھاسے تعلق رکھنے والے وئیبھو راوت کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا اور وہاں سے ہتھیار اور گولہ بارود کا بڑا ذخیرہ برآمد کیا۔اس معاملے کی تحقیقات کے دوران سناتن سنستھا کے حامی شرد کالسکر، سدھنوا گندھالیکر، شری کانت پنگاریکر اور اویناش پوار کا کردار سامنے آیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ ان ملزمین کے ٹھکانوں سے بھی ہتھیار ضبط کیے گئے۔

 اے ٹی ایس کا کہنا ہے کہ دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث اس ٹیم کا پرد ہ فاش کرنے کے دوران اسے پتہ چلاکہ گرفتار کیے گئے کچھ ملزمین پونے میں دابولکر، کولھاپور میں پنسارے، دھارواڑ میں کلبرگی اور بنگلورو میں گوری لنکیش کے قتل میں شامل رہے ہیں۔ان سے سختی کے ساتھ تفتیش کے دوران پانچ ملزمین نے ایم ڈی مُرلی کے بارے میں بتایا کہ وہی ان دہشت گردانہ حملوں کا اصل سرغنہ ہے،اور وہ امول کالے کے ذریعے انہیں ہدایات اور پیغامات پہنچایا کرتاتھا۔ملزم امول کالے کوکرناٹکاکی اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بعد میں گوری لنکیش قتل کے سلسلے میں گرفتار کرلیا۔ 

 پھر جب مہاراشٹرا اے ٹی ایس نے دوبارہ ان پانچ ملزمان کوتحقیقات کے لئے مزید20دنوں تک اپنی تحویل میں لیا تو ان ملزمین نے بتایاکہ مفرور ملزم ایم ڈی مُرلی ان کے ساتھ باقاعدہ تسلسل سے میٹنگس کیا کرتاتھا۔اور 2008کے بعد ہونے والے بہت سے بم دھماکوں کے پیچھے اس کا ہی دماغ کارفرما تھا۔ اس نے شہروں اور مختلف اہم مقامات پر بڑھتے ہوئے سی سی کیمروں کے پیش نظر اپنے ساتھیوں کو ہدایت دے رکھی تھی کہ وارداتیں انجام دیتے وقت وہ اپنے سر پر ٹوپی پہن لیا کریں اور آنکھوں پر سیا ہ چشمے لگایا کریں۔اے ٹی ایس ٹیم کے بیان کے مطابق ملزمین نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ ان کے گروپ نے سال 2017میں پونے میں ہونے والی ’سَن بَرن‘ نامی الیکٹرانک رقص و موسیقی کے جشن میں بم دھماکے کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، کیونکہ وہ اسے ہندو تہذیب کے خلاف تصور کرتے تھے۔

 گرفتار شدہ ملزمین کے بیانات کے پس منظر میں اے ٹی ایس نے مُرلی کو گرفتار کرنے کی کوشش شروع کی، لیکن وہ جو بھی موبائل فون استعمال کرتا ہے وہ نمبرز کسی اور نام سے رجسٹر ڈ ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس کی موجودگی کا پتہ لگانا مشکل ہورہا ہے۔چونکہ ملزمین نے اس کے ساتھ اورنگ آباد میں ملاقاتیں کرنے کی بات کہی ہے اس لئے اے ٹی ایس نے اورنگ آباد میں مُرلی کو ڈھونڈ نکالنے کی کوشش کی، مگر کسی قسم کا ٹھوس ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے وہاں بھی ناکامی ہوئی۔اے ٹی ایس ٹیم کا کہنا ہے کہ مُرلی کی تصویراب اس کے ہاتھ لگ گئی ہے اور وہ اس کی گرفتاری کے لئے مزیدکچھ اہم ثبوت اور معلومات اکٹھا کرنے میں مصروف ہے۔
 

ایک نظر اس پر بھی

اللہ یہ کیسی عید، پروردگار ایسی عید پھر کبھی نہ آئے۔۔۔۔ از:ظفر آغا

اللہ، یہ کیسی عید آئی پروردگار! نہ مسجد میں نماز، نہ بازار میں خریداری، نہ چاند رات کی بے چینی، نہ وہ گلے ملنا اور نہ ہی وہ گلے مل کر عطر سے معطر ہو جانا... کچھ بھی تو نہیں۔ گھروں میں بند، سیوئیاں بھی بے مزہ۔ وہ شام کی دعوتیں، وہ گھر گھر جا کر عید ملنا، سب خواب ہو گیا۔ ارے رمضان بھی ...

کورونا وباء بھٹکل والوں کے لئے بن گئی ایک آفت۔فرقہ پرست نہیں چھوڑرہے ہیں مخصوص فرقے کو بدنام کرنے کا موقع، ہاتھ ٹوٹنے کی وجہ سے بچی کو منگلورو لے جانے پر گودی میڈیا نے مچایا واویلا

بھٹکل کے مسلمانو ں کے لئے بیماری بھی فرقہ وارانہ رنگ و روپ لے کرآتی ہے اورانہیں ہر مرحلے پر نئی ہراسانیوں کا شکار ہونا پڑتا ہے۔کورونا کی وباء ایک طرف مرض کے طور پر مصیبت بن گئی ہے تو کچھ فرقہ پرستوں کی طرف سے اس کو متعصبانہ رنگ دیا جارہا ہے اور یہ دوسری مصیبت بن گئی ہے۔

بھٹکل میں کووِڈ کے تازہ معاملات: کیا جنوبی کینرا اور شمالی کینرا ضلع انتظامیہ کی کوتاہی نے بگاڑا سارا کھیل؟ ۔۔۔۔۔۔ سینئر کرسپانڈنٹ کی خصوصی رپورٹ

بھٹکل میں خلیجی ملک سے کورونا وباء آنے اور پھر ضلع انتظامیہ، پولیس، محکمہ صحت اور عوام کے تعاون سے اس پر تقریباً قابو پالینے کے بعد اچانک جو دوسرا مرحلہ شروع ہوا ہے اور بڑی سرعت کے ساتھ انتہائی سنگین موڑ پر پہنچ گیا ہے اس پر لوگ سوال کررہے ہیں کہ کیا ا س کے لئے ضلع جنوبی کینرا ...

ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں پر بغاوت کا مقدمہ اور پولیس کی آمد ...... عابد انور

ہندوستان قانون کو من مانے ڈھنگ سے استعمال کرنے والے ممالک کی فہرست میں صف اول میں آگیا ہے۔ تمام سطح پر اس کی رینکنگ گرتی جاری ہے لیکن حکومت اس پر غور کرنے اور ملک کی شبیہہ کو داغدار ہونے سے بچانے کے لئے کوئی قدم اٹھانے کے بجائے اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔

کیا بھٹکل کے معاملے میں پس پردہ کوئی کھیل چل رہا ہے؟رکن اسمبلی اور رکن پارلیمان کا کردار سوالوں کے گھیرے میں!۔۔۔۔۔ سینئر کرسپانڈنٹ کی خصوصی رپورٹ

بھٹکل میں کورونا وائرس کے معاملات جب بڑھنے لگے تھے اور اتفاق سے تمام مریض اور مشتبہ افراد مسلمان ہی نکل رہے تھے، اسی وقت سیاسی اور سماجی حالات پر نظر رکھنے والوں نے اندازہ لگالیا تھا کہ اس وبائی معاملے میں زعفرانی سیاسی تعصب اور شرانگیزی اپنا سر ضرور اٹھائے گی، لاک ڈاؤن قوانین ...