ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / 15 اکتوبر سے یو پی آئی کے ایم ڈی آر قوانین میں تبدیلی، صارفین کے لیے ادائیگی مفت برقرار

15 اکتوبر سے یو پی آئی کے ایم ڈی آر قوانین میں تبدیلی، صارفین کے لیے ادائیگی مفت برقرار

Wed, 16 Sep 2026 10:44:01    S O News

نئی دہلی ، 16/ ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی)   حکومت نے 15 اکتوبر سے یو پی آئی ادائیگیوں پر مرچینت ڈسکاؤنٹ ریٹ(ایم ڈی آر) لاگوکر دیا ہے۔ یو پی آئی کے نئے قوانین عوام میں بھی تشویش پیدا کرتے ہیں جیسے کیا ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے اضافی چارجز کاٹے جائیں گے؟ محکمہ مالیاتی خدمات (ڈی ایف ایس) اور نیشنل پیمنٹ کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی) نے یو پی آئی ادائیگیوں کے لیے ایک نیا مرچینٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ (ایم ڈی آر) فریم ورک جاری کیا ہے۔

اگر آپ روزمرہ کی اشیاء، دودھ، سبزیوں، گروسری، آٹو کیبس، یا آن لائن شاپنگ کے لیے یو پی آئی استعمال کرتے ہیں، تو آپ کے لیے سب سے بڑی اور سب سے زیادہ اطمینان بخش خبر یہ ہے کہ یو پی آئی  پہلے کی طرح سو فیصد مفت رہے گا۔ اس سے بھی  کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ آپ کسی جاننے والے، دوست یا رشتہ دار کو کتنی ہی رقم بھیجیں، چاہے وہ 100 روپے ہوں یا 1 لاکھ روپے، نئے قوانین کے مطابق ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ اس کا مطلب ہے کہ ایک شخص سے دوسرے شخص کی منتقلی مکمل طور پر مفت ہے۔

جب آپ کسی دکان یا آن لائن پلیٹ فارم سے سامان خریدتے ہیں اور کیو آرکوڈ اسکین کرتے ہیں یا  یو پی آئی  آئی ڈی کا استعمال کرتے ہوئے ادائیگی کرتے ہیں، تو بطور صارف آپ سے کوئی اضافی فیس نہیں لیا جائے گی۔ نئے قوانین کے مطابق حکومت نے گوگل پے، فون پے یا پے ٹی ایم جیسی پیمنٹ ایپس کو واضح طور پر ہدایت دی ہے کہ وہ صارفین سے کوئی پلیٹ فارم فیس یا پوشیدہ چارجز نہیں لے سکتے ہیں۔

مرچینٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ وہ کمیشن یا فیس ہے جو ایک مرچینٹ اپنے صارفین سے ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے کے عوض بینکوں اور ادائیگی کی خدمات فراہم کرنے والوں جیسےفون پے ، گوگل پےاور پے ٹی ایم کو ادا کرتا ہے۔ جنوری 2020 سے، ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے کے لیے یو پی آئی پر مرچینت ڈسکاؤنٹ ریٹ کو مکمل طور پر صفر کر دیا گیا تھا۔ اب، نئے قوانین کے تحت، مرچینت ڈسکاؤنٹ ریٹ کو بحال کیا جا رہا ہے۔ زیرو مرچینت ڈسکاؤنٹ ریٹ کسی بھی دکان یا  مرچینٹ  پردو ہزار روپے تک کے لین دین پر لاگو ہوگا۔

اگر آپ کسی بڑے اسٹور یا مال میں یو پی آئی کے ذریعہ دو ہزار  سے زیادہ کی ادائیگی کرتے ہیں، تو مرچینٹ کو 0.4 فیصد کا مرچینٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ دینا پڑے گا۔ مثال کے طور پر، اگر لین دین تین ہزار  کاہے، تو دکاندار کو بارہ روپے کا چارج دینا پڑے گا۔اسی طرح پانچ ہزار روپےکے ٹرانزیکشن کے لیے، مرچینٹ کو 20 روپے کا چارج دینا پڑے گا۔ بڑے کاروباروں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے۔ 75,000  روپے یا اس سے زیادہ کی بڑی ادائیگیوں کے لیے زیادہ سے زیادہ مرچینٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ کی حد 300  روپےمقرر کی گئی ہے۔ چاہے لین دینایک1 لاکھ ہو یا 5 لاکھ کا ہو چارج 300  روپےسے زیادہ نہیں ہو سکتا۔

نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر خبر شائع ہونے کے مطابق ریلوے ٹکٹ، پٹرول پمپ، انشورنس اور ٹیلی کام جیسی ضروری خدمات کے لیے فیصد پر مبنی فیس وصول کرنے کے بجائے، صرف 5  روپےکا فلیٹ مرچینٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ مقرر کیا گیا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ اگر آپ یو پی آئ کے ذریعہ 2,000  روپےسے زیادہ کی ادائیگی کرتے ہیں (چاہے وہ  2,500  روپے کا پیٹرول بھر انا ہو یا 50,000  روپےکا انشورنس پریمیم ادا کرنا ہو) تو مرچینٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ سے صرف 5 روپےکا فکسڈ چارج لیا جائے گا۔ یہ مقررہ شرح لاگت کو مستحکم رکھتی ہے، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ صارفین پر کوئی بالواسطہ بوجھ نہ پڑے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ایک بہت بڑا انفراسٹرکچر اس نظام کو تقویت دیتا ہے جو ہر ماہ اربوں یو پی آئی لین دین کو سنبھالتا ہے۔ سرورز کو 24 گھنٹے فعال رکھنا، سائبر حملوں کو روکنا، اور دھوکہ دہی سے تحفظ انتہائی مہنگا ہے۔ بینکوں اور فنٹیک کمپنیوں نے طویل عرصے سے اس لاگت کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی بینکنگ اور فن ٹیک صنعتوں کو مضبوط کرے گی۔


Share: