ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ووٹر لسٹ تنازع : 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں سماعت، اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے رویے پر سوال اٹھائے

ووٹر لسٹ تنازع : 10 جولائی کو سپریم کورٹ میں سماعت، اپوزیشن نے الیکشن کمیشن کے رویے پر سوال اٹھائے

Tue, 08 Jul 2025 11:19:01    S O News

پٹنہ ، 8 جولائی (ایس او نیوز / ایجنسی)بہار میں ووٹر لسٹ پر نظر ثانی کے نام پر ۲۰۰۳ء کے بعد رجسٹرڈ ہونےوالے تمام  ووٹرس سے شہریت کا ثبوت  مانگنے کے الیکشن کمیشن  کے فیصلے کے خلاف  داخل کی گئی پٹیشنوں پر سپریم کورٹ فوری سماعت کیلئے رضامند ہوگیاہے۔اس نے  ۹؍ سیاسی جماعتوں اور دیگر تنظیموں کےذریعہ داخل کی گئی پٹیشنوں  پر جمعرات،  ۱۰؍ جولائی کو سماعت کرنےکافیصلہ کیا ہے۔   اس بیچ بہار ہی نہیں ملک بھر میں  اپوزیشن اس کے خلاف متحد نظر آرہاہے۔ کانگریس نے اسے ’’دھوکے بازی پر مبنی  حکمت عملی‘‘  کے تحت بڑی تعداد میں ووٹرس کو ان  کے جمہوری حق سے محروم کرنےکی سازش قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اپوزیشن اس  کے خلاف متحد ہے۔ پارٹی نے اس ضمن میں سپریم کورٹ پر بھی مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

پیر کو سپریم کورٹ میں سینئروکلاء کپل سبل، ڈاکٹر ابھیشیک منو سنگھوی، گوپال شنکرنارائنن اور سعدان  فراست نے  جسٹس سدھانشو دھولیا اور جسٹس جویمالیہ باغچی کی بنچ  میں مذکورہ پٹیشن کا حوالہ دیا  اور  اس پر فوری سماعت کی درخواست کی۔سینئر وکلاء نے صورتحال کی سنگینی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق جو رائےدہندگان مخصوص دستاویزات کے ساتھ فارم جمع کرانے میں ناکام رہیںگے ان کے نام  انتخابی فہرست سے حذف کردیئے جائیں گےچاہے وہ گزشتہ ۲۰؍ سال سے انتخابات میں ووٹ دے رہے ہوں۔ وکلاء نے مزید بتایا کہ کس طرح الیکشن کمیشن آدھار اور ووٹر کارڈ کو ثبوت کے طور پر قبول نہیں کررہاہے اور دستاویز فراہم کرنےکیلئے  صرف ۲۵؍جولائی تک کا وقت دیا گیا ہے۔بہار میں ۸؍ کروڑ رائے دہندگان ہیں جن میں سے چار کروڑ کو اس عمل سے گزرنا ہے۔ بنچ نے کہاکہ بہار میں  الیکشن کا اعلان نہیں کیا گیا  اس لئے مقررہ وقت کی کوئی اہمیت نہیں البتہ وہ اس معاملے پر ۱۰؍جولائی سماعت کرے گی۔ اپوزیشن پارٹیاں اسے قانونی لڑائی میں پہلی کامیابی قراردے رہی ہیں۔

اس بیچ الیکشن کمیشن جو  ہر دوسرے دن اس معاملے میں کوئی نیا اعلان کرتاہے، نے اب کہا ہے کہ دستاویز جمع کرنے کا وقت صرف ۲۵؍ جولائی تک ہی نہیں ہے بلکہ  بعد  میں ’’اعتراض اور دعویٰ‘‘کے مرحلے میں بھی دستاویز فراہم کئے جاسکتے ہیں۔اتنا ہی نہیں کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے جن ۱۱؍ دستاویز کاذکر کیا ہے،ان کے علاوہ بھی  دستاویزفراہم کئے جاسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہاگیا ہے کہ اگر فیلڈ آفیسردیگر شواہد کی بنیاد پر مطمئن  ہیں تو وہ نام کو شامل رکھنےکافیصلہ کرسکتے ہیں۔

دوسری طرف کانگریس نے بہار میں ووٹر لسٹ کی خصوصی نظر ثانی مہم کو بڑے پیمانے دھاندلی کی کوشش اور شرارت قرار دیا۔پارٹی نے کہا کہ بہار میں ووٹرلسٹ کی خصوصی نظرثانی کو سپریم کورٹ کے سامنےاپوزیشن کی ۹؍پارٹیاں چیلنج کررہی ہیں۔ پارٹی نے کہا کہ  اپوزیشن پوری طرح سے اس مسئلہ پر متحد ہے۔ کانگریس نے مزید کہاکہ اسے پورا بھروسہ ہے کہ عدالت عظمیٰ انصاف فراہم کرے گی۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس نے اپوزیشن کی دیگر پارٹیوں کے ساتھ بہار میں غیر آئینی ووٹرلسٹ خصوصی نظر ثانی مہم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے اس قدم نے بہار کے دیہاتوں اور قصبوں میں تباہی مچا دی ہے، جس سے کروڑوں ووٹروں کو اس بات پر تشویش ہے کہ آیا ان کے ووٹ کا حق چھین لیا جائے گا۔یہ بڑے پیمانے پر دھاندلی اور بدانتظامی ہے جوالیکشن کمیشن اقتدار میں موجود لوگوں کی ہدایات پر کررہاہے۔انہوںنے اس یقین کا اظہار کیاکہ سپریم کورٹ سے اس معاملہ میں انصاف ملے گا۔


Share: