نئی دہلی ، 12 /ستمبر (ایس او نیوز /ایجنسی )ریزرو بینک آف انڈیا کو بیرونی جھٹکوں، خام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور مہنگائی کے وسیع پیمانے پر پھیلنے کے اشاروں سے نمٹنے کے لیے اکتوبر میں پالیسی شرح میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرنا چاہیے۔ ایس بی آئی ریسرچ نے جمعہ کو جاری اپنی رپورٹ میں دسمبر میں بھی مزید 25 بیسس پوائنٹس کے اضافے کی سفارش کی ہے۔
آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اگلا اجلاس 5 سے 7 اکتوبر 2026 کو ہونا ہے۔ مرکزی بینک نے اگست میں مسلسل چوتھی بار ریپو ریٹ کو 5.25 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔ ایس بی آئی ریسرچ نے کہا کہ ایک ماہ پہلے تک شرح سود میں اضافے کی زیادہ بات نہیں ہو رہی تھی اور زیادہ تر لوگوں کو طویل عرصے تک شرحوں میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کی توقع تھی۔ لیکن اس کے بعد حالات کافی بدل گئے ہیں۔ ایس بی آئی کے اقتصادی تحقیقاتی شعبے کی رپورٹ ’ایس بی آئی ایکورَیپ‘ میں کہا گیا ہے کہ شرح بڑھانے کی یہ سفارش امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ کسی بھی فیصلے سے آزاد ہے۔ جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے درمیان خام تیل کی قیمت حال ہی میں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہتی ہے تو آئندہ 15 دنوں میں خام تیل کی قیمت 123 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔ ایس بی آئی ریسرچ نے کہا کہ ’’ہم آئندہ اکتوبر کی مانیٹری پالیسی میں 25 بیسس پوائنٹس کی شرح میں اضافے کی پرزور سفارش کرتے ہیں۔ اس کے بعد دسمبر میں بھی جلد ہی ایک اور اضافہ کیا جانا چاہیے۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ سفارش اگست کے کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کے اعداد و شمار سے بھی متاثر نہیں ہوگی۔ اگست میں مہنگائی کی شرح تقریباً 4.8 سے 4.9 فیصد تھی۔
ایس بی آئی ریسرچ نے اندازہ لگایا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو اکتوبر اور نومبر میں مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) پر مبنی خوردہ مہنگائی اب آہستہ آہستہ مزید شعبوں میں پھیلنے کے ابتدائی اشارے دے رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان شعبوں میں مہنگائی کے مزید وسیع ہونے کا خطرہ زیادہ ہے جہاں فی الحال پیداوار میں استعمال ہونے والی اشیاء کی قیمتیں تیار مصنوعات کی قیمتوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پیداواری لاگت میں اضافے کا مکمل اثر ابھی قیمتوں میں شامل نہیں ہوا ہے۔ اس کا اثر خام پٹرولیم اور قدرتی گیس، مشروبات، ادویات اور الیکٹرانکس جیسے شعبوں میں نظر آ رہا ہے۔
ایس بی آئی ریسرچ نے کہا کہ ’’مہنگائی پہلے ہی مزید شعبوں میں پھیل رہی ہے اور لاگت کا دباؤ ابھی مکمل طور پر قیمتوں میں شامل نہیں ہوا ہے۔ ایسے میں سی پی آئی میں اس کا مکمل اثر نظر آنے تک انتظار کرنا مہنگائی کے مزید مضبوط ہونے کے بعد ردعمل ظاہر کرنے کے مترادف ہوگا۔‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پیاز، خوردنی تیل اور ایل پی جی مہنگے ہونے سے ریستوراں کے شعبے میں بھی مہنگائی میں تیز اضافہ ہوا ہے۔ لیکویڈیٹی کے حوالے سے ایس بی آئی ریسرچ نے کہا کہ ایف سی این آر (بی) ڈپازٹس سے بینکوں کے پاس قرض دینے کے لیے دستیاب وسائل میں اضافہ ہوا ہے اور بینکنگ نظام میں اضافی لیکویڈیٹی برقرار ہے۔ رپورٹ کے مطابق جمع کی گئی 127 ارب ڈالر کی رقم تقریباً بینکنگ نظام میں موجود فنڈز کی کمی کے برابر ہے۔ ایسے میں قرض کی مضبوط طلب کے باعث موجودہ اضافی لیکویڈیٹی میں بتدریج کمی آنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی سال 27-2026 کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی کی مضبوط شرح نمو کے اعداد و شمار سے بھی قرض کی طلب کو حمایت ملی ہے۔ ایس بی آئی ریسرچ کا اندازہ ہے کہ اگر توقع کے مطابق قرض کی طلب برقرار رہتی ہے تو مالی سال کے اختتام تک بینکنگ نظام میں لیکویڈیٹی معمول کی سطح پر آ سکتی ہے۔ مالی سال 27-2026 کی دوسری ششماہی میں قرض کی مضبوط طلب کی جانب آر بی آئی کا بینک لینڈنگ سروے بھی اشارہ کرتا ہے۔