حیدرآباد، 8/ جولائی( ایس او نیوز/ایجنسی)اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کےرکنِ پارلیمان اسدالدین اویسی نے پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر کرن ریجیجو کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ "بھارت واحد ملک ہے جہاں اقلیتوں کو اکثریتی طبقے سے زیادہ فوائد اور تحفظ حاصل ہے۔" اویسی نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتیں اب دوسرے درجے کی شہری بھی نہیں رہے، بلکہ ’یرغمال‘ بن چکی ہیں۔
کرن ریجیجو نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ 11 برسوں میں مودی حکومت نے 'سب کا ساتھ، سب کا وکاس، سب کا وشواس، سب کا پریاس' کے اصولوں پر عمل کیا ہے، اور اقلیتوں کو تعلیم، روزگار، کاروبار اور شراکت داری میں خصوصی مواقع دیے گئے ہیں۔
اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جواب دیتے ہوئے لکھا:"آپ ہندوستانی جمہوریت کے وزیر ہیں، کوئی راجہ نہیں۔ اقلیتوں کے حقوق خیرات نہیں، آئینی حق ہیں۔"
انہوں نے سوال کیا:"کیا یہ 'فائدہ' ہے کہ ہمیں ہر دن پاکستانی، بنگلہ دیشی، جہادی یا روہنگیا کہا جائے؟ کیا لنچنگ کا نشانہ بننا ’تحفظ‘ ہے؟ کیا ہندوستانی شہریوں کو اغوا کر کے بنگلہ دیش میں دھکیل دینا تحفظ ہے؟"
ریجیجو کے بیان پر مزید روشنی ڈالتے ہوئے، انہوں نے کہا تھا:"جو کچھ ہندوؤں کو ملتا ہے، وہ اقلیتوں کو بھی ملتا ہے۔ لیکن جو اقلیتوں کو ملتا ہے، وہ ہندوؤں کو نہیں ملتا۔ اقلیتوں کو زیادہ فنڈ، زیادہ اسکیمز اور زیادہ مواقع دیے جا رہے ہیں۔"
اس پر اویسی نے مزید نشاندہی کی کہ مسلمان واحد طبقہ ہیں جن کے بچے آج اپنے ماں باپ یا دادا دادی سے بھی پیچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کی نمائندگی اعلیٰ تعلیم میں کم ہوتی جا رہی ہے، اور مسلم اکثریتی علاقوں میں بنیادی سہولیات و انفرااسٹرکچر کی بھی شدید کمی ہے۔
اویسی کا کہنا تھا:"ہم کسی اور ملک کی اقلیتوں سے موازنہ نہیں چاہتے، ہم صرف وہی انصاف مانگتے ہیں جو ہمارا آئینی حق ہے۔"
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر حکومت وقف ایکٹ کے تحت غیر مسلموں کو مسلم وقف بورڈز پر نامزد کر سکتی ہے، تو کیا کبھی کسی مسلمان کو ہندو انڈومنٹ بورڈ کا رکن بنایا گیا ہے؟
یہ تنازع ایسے وقت پر ابھرا ہے جب ملک میں اقلیتوں کے حقوق، ویلفیئر پالیسیز، اور مذہبی اداروں کی خودمختاری کو لے کر شدید بحث جاری ہے۔ اویسی کے اس سخت بیان کو حکومت کی اقلیتی پالیسیوں پر ایک بڑی چیلنج کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو صرف سیاسی مخالفت نہیں بلکہ آئینی اور سماجی انصاف کے سوالات بھی اٹھا رہا ہے۔