ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / آر ایس ایس کی قانونی حیثیت پر پھر سوال؛ پریانک کھرگے نے بی جے پی کو دیا نیا چیلنج

آر ایس ایس کی قانونی حیثیت پر پھر سوال؛ پریانک کھرگے نے بی جے پی کو دیا نیا چیلنج

Mon, 08 Jun 2026 20:32:15    S O News
آر ایس ایس کی قانونی حیثیت پر پھر سوال؛ پریانک کھرگے نے بی جے پی کو دیا نیا چیلنج

بنگلورو، 8 جون (ایس او نیوز): آر ایس ایس کی قانونی حیثیت پر جاری بحث کے درمیان کرناٹک کے وزیر داخلہ پریانک کھرگے نے بی جے پی پر تازہ سیاسی حملہ کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا ہے کہ وہ اپنی نظریاتی سرپرست تنظیم آر ایس ایس کو رجسٹریشن کے دستاویزات تیار رکھنے کا مشورہ دے۔ ان کے اس بیان نے کرناٹک کی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

پریانک کھرگے نے یہ تبصرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب چند روز قبل ہی انہیں کرناٹک کے محکمہ داخلہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ وزیر داخلہ بننے کے بعد انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس ان کے خلاف سیاسی مہم چلا رہے ہیں اور ان کے بیانات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ ان کے عہدہ سنبھالنے کے صرف چند گھنٹوں کے اندر ہی مخالفین میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ 

دراصل پریانک کھرگے گزشتہ کئی مہینوں سے آر ایس ایس کے قانونی اور مالیاتی ڈھانچے پر مسلسل سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ فروری 2026 میں بنگلورو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس ایک ایسی تنظیم ہے جو ملک اور بیرون ملک ہزاروں ذیلی اداروں اور تنظیموں کے ذریعے سرگرم ہے، لیکن اس کی مالیاتی سرگرمیوں میں مطلوبہ شفافیت موجود نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ جب دیگر اداروں کے مالی معاملات کی جانچ ہوتی ہے تو آر ایس ایس کے چندے اور مالی وسائل کے بارے میں سوالات کیوں نہیں اٹھائے جاتے۔ 

اسی تقریر میں پریانک کھرگے نے آر ایس ایس پر ’’منی لانڈرنگ‘‘ جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے تھے اور دعویٰ کیا تھا کہ اس سے وابستہ دو ہزار پانچ سو سے زائد تنظیمیں مختلف ممالک میں سرگرم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کے دیگر اداروں اور تنظیموں کو مالیاتی جوابدہی کا پابند بنایا جا سکتا ہے تو آر ایس ایس کو بھی اسی معیار پر پرکھا جانا چاہیے۔

بعد ازاں پریانک کھرگے نے واضح طور پر کہا تھا کہ کانگریس حکومت آر ایس ایس کو رجسٹر کرنے کے لیے قانون لانے پر غور کر سکتی ہے۔ ان کا استدلال تھا کہ ایک ایسی تنظیم جو ملک بھر میں وسیع پیمانے پر سرگرم ہو اور عوامی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہو، اسے قانونی طور پر رجسٹرڈ اور جوابدہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہاں تک کہا تھا کہ اگر آر ایس ایس خود رجسٹریشن کے لیے تیار نہ ہو تو حکومت قانون سازی کا راستہ اختیار کر سکتی ہے۔ 

پریانک کھرگے اور آر ایس ایس کے درمیان کشیدگی صرف رجسٹریشن کے معاملے تک محدود نہیں رہی۔ گزشتہ سال انہوں نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں، کالجوں اور دیگر سرکاری اداروں میں آر ایس ایس کی شاخاؤں اور سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سرکاری تعلیمی اداروں کو سیاسی اور نظریاتی سرگرمیوں سے دور رکھا جانا چاہیے۔ اس مطالبے کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس نے ان کے خلاف شدید احتجاج کیا تھا۔

پریانک کھرگے نے متعدد مواقع پر آر ایس ایس کو ملک کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا ہے۔ جنوری 2026 میں انہوں نے کہا تھا کہ آر ایس ایس کی بعض سرگرمیاں آئینی اقدار سے متصادم ہیں اور ملک کو آگے بڑھنے کے لیے شفافیت، مساوات اور آئینی اصولوں کو ترجیح دینا ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف دائر کیے جانے والے کئی قانونی مقدمات دراصل آر ایس ایس کے مالیاتی معاملات پر ان کے سوالات کا نتیجہ ہیں۔

اپریل 2026 میں بھی پریانک کھرگے نے ایک تنازع کے دوران آر ایس ایس کو چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر تنظیم واقعی ایک باقاعدہ ادارہ ہے تو اسے اپنے لیٹر ہیڈ پر شکایت درج کرانی چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ آر ایس ایس کی قانونی حیثیت کے بارے میں اتنی ابہام کیوں موجود ہے اور اس کی تنظیمی ساخت کو عوام کے سامنے کیوں نہیں لایا جاتا۔ 

سیاسی مبصرین کے مطابق پریانک کھرگے کے حالیہ بیان کو محض ایک سیاسی طنز نہیں سمجھا جا رہا بلکہ یہ کانگریس اور آر ایس ایس کے درمیان جاری نظریاتی کشمکش کا تازہ باب ہے۔ کانگریس قیادت آر ایس ایس کی قانونی اور مالیاتی جوابدہی کا سوال اٹھا رہی ہے جبکہ بی جے پی اسے ہندوتوا اور قوم پرست تنظیموں کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ اسی وجہ سے پریانک کھڑگے کا ’’رجسٹریشن دستاویزات تیار رکھو‘‘ والا بیان ریاستی اور قومی سیاست میں خاصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔


Share: