ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / مہمان اداریہ / نفرت کے شور میں انسانیت کی آواز: مالویہ نگر سے اُبھرتی مسلم نوجوانوں کی ایک مختلف تصویر- تحریر: محمد طلحہ سیدی باپا

نفرت کے شور میں انسانیت کی آواز: مالویہ نگر سے اُبھرتی مسلم نوجوانوں کی ایک مختلف تصویر- تحریر: محمد طلحہ سیدی باپا

Sat, 06 Jun 2026 18:16:03    S O News
نفرت کے شور میں انسانیت کی آواز: مالویہ نگر سے اُبھرتی مسلم نوجوانوں کی ایک مختلف تصویر- تحریر: محمد طلحہ سیدی باپا

اگر کوئی شخص صرف ٹی وی مباحثوں، نفرت انگیز بیانات اور سوشل میڈیا کی شوریدہ دنیا کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کی تصویر بنائے تو شاید اس کے ذہن میں ایک خاص تاثر پیدا ہو۔ ایسا تاثر جس میں مسلمان نوجوان کو غصے، اشتعال، شدت پسندی یا سماجی فاصلے کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ کبھی اس کے لباس پر سوال اٹھائے جاتے ہیں، کبھی اس کی مذہبی شناخت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اور کبھی اس کے وجود کو ہی ایک مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

اگر وہی شخص آگ لگنے کی جگہوں، سیلاب زدہ بستیوں، وباؤں کے دنوں، خون کے عطیات کی قطاروں، سڑک حادثات یا عوامی مصیبت کے مناظر میں جائے تو اسے شاید ایک بالکل مختلف تصویر دکھائی دے — ایسے نوجوانوں کی تصویر، جو مذہب، ذات، قوم اور شناخت کی تفریق سے اوپر اٹھ کر دوسروں کی جان بچانے، بھوک مٹانے اور مصیبت بانٹنے کے لیے سب سے پہلے کھڑے نظر آتے ہیں۔دہلی کے مالویہ نگر میں پیش آنے والا حالیہ سانحۂ آتش زدگی اسی حقیقت کی ایک تازہ مثال بن کر سامنے آیا۔

اطلاعات کے مطابق ایک ہوٹل نما عمارت، جہاں کئی مسافر اور بیرونِ ملک سے علاج کی غرض سے آئے ہوئے افراد بھی مقیم تھے، اچانک آگ کی لپیٹ میں آگئی۔ عمارت چند ہی لمحوں میں دھوئیں سے بھر گئی۔ چیخ و پکار مچ گئی۔ لوگ جان بچانے کے لیے کھڑکیوں اور بالکونیوں تک پہنچ گئے۔ کچھ کے پاس اوپر سے چھلانگ لگانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ایسے لمحات میں عموماً لوگ آگ سے دور بھاگتے ہیں۔لیکن مالویہ نگر کی ایک گلی میں کچھ نوجوان آگ کی طرف دوڑ رہے تھے۔ان میں ایک نام ریاض الدین منصوری کا تھا — ایک معمولی بستر فروش۔ نہ کوئی معروف شخصیت، نہ سماجی کارکن، نہ کوئی بااثر آدمی۔ مگر بعض اوقات تاریخ خاموش لوگوں سے غیر معمولی کام لے لیتی ہے۔ریاض الدین منصوری اپنے بیٹے ارمان منصوری کے ساتھ فوراً جائے حادثہ پر پہنچے۔ ان کے ساتھ محمد افضل، وسیم راجا اور دیگر مقامی نوجوان بھی تھے۔ اوپر پھنسے ہوئے لوگ مدد کے لیے پکار رہے تھے۔ نیچے کھڑے نوجوان ہمت بندھا رہے تھے:’’کود جاؤ! ہم ہیں… اللہ کے لیے ڈرو مت!‘‘مگر ہاتھوں سے گرتے ہوئے جسم کب تک سنبھالے جا سکتے تھے؟تب ایک فیصلہ ہوا — فوری، بے ساختہ، مگر انتہائی انسانی۔ریاض الدین منصوری اور ان کے ساتھی اپنی دکان سے گدّے، بستر، رضائیاں اور موٹے کپڑے کھینچ کر سڑک پر بچھانے لگے تاکہ اگر لوگ اوپر سے کودیں تو ان کی جان بچ سکے۔ کچھ نوجوان زخمیوں کو کنارے لے جا رہے تھے، کچھ پانی لا رہے تھے، کچھ ایمبولینس کے لیے راستہ صاف کر رہے تھے، جبکہ وسیم راجا دھوئیں سے بے ہوش ہونے والوں کو مصنوعی سانس (CPR) دے کر زندگی واپس لانے کی کوشش کر رہے تھے۔یہ صرف ایک ریسکیو آپریشن نہیں تھا، بلکہ انسانیت، اجتماعی احساسِ ذمہ داری اور فوری قربانی کا ایک زندہ منظر تھا۔

لیکن اس واقعے کا ایک ایسا پہلو بھی ہے جو شاید سب سے زیادہ معنی خیز ہے۔ریاض الدین منصوری بستر فروش ہیں۔وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایک مرتبہ گدّے آگ، دھوئیں، گردوغبار اور فائر بریگیڈ کے پانی میں آجائیں تو ان کی تجارتی قیمت تقریباً ختم ہو جاتی ہے۔ ایک تاجر کے لیے اس کا سامان صرف چیز نہیں ہوتا، اس کی محنت، سرمایہ اور روزی روٹی ہوتی ہے۔مگر ان لمحوں میں شاید ریاض الدین منصوری حساب نہیں لگا رہے تھے۔وہ صرف انسان دیکھ رہے تھے۔اوپر زندگی اور موت کے درمیان جھولتے ہوئے لوگ تھے۔بس اتنا کافی تھا۔یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اس وقت کسی نے یہ نہیں پوچھا:اوپر کون پھنسا ہوا ہے؟ہندو یا مسلمان؟بھارتی یا غیر ملکی؟غریب یا امیر؟کس زبان یا کس مذہب کا؟مصیبت نے سب شناختیں مٹا دی تھیں، اور انسانیت نے ان کی جگہ لے لی تھی۔اس واقعے میں ایک اور چیز دل کو چھو لینے والی تھی — ان نوجوانوں کی عاجزی۔

جب ارمان منصوری سے ان کی بہادری کے بارے میں پوچھا گیا تو نہ کوئی فخر، نہ کوئی دعویٰ، نہ خودنمائی۔ بڑی سادگی اور انکساری کے ساتھ انہوں نے صرف اتنا کہا:’’آج اللہ رب العزت نے مجھے چند جانوں کو بچانے کی توفیق دی، اس پر میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔‘‘یہ مختصر جملہ شاید اس پورے واقعے کی سب سے خوبصورت تصویر ہے۔ کیونکہ یہاں بہادری کے ساتھ عاجزی بھی موجود ہے۔ خدمت بھی ہے اور شکر بھی۔ نہ داد طلبی، نہ شہرت کی خواہش، نہ کسی قسم کا دعویٰ۔صرف یہ احساس کہ اگر کسی کی جان بچ گئی تو یہ میری طاقت نہیں، میرے رب کا فضل ہے۔اور شاید یہی وہ پہلو ہے جو مالویہ نگر کے واقعے کو ایک معمولی خبر سے کہیں زیادہ بڑا بنا دیتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں جب مسلم نوجوانوں نے اس طرح کا کردار ادا کیا ہو۔کورونا کے دنوں میں کتنے ہی مسلم نوجوان آکسیجن سلنڈر لے کر گلیوں میں نکلے، کتنی مساجد نے مذہب پوچھے بغیر بھوکوں تک کھانا پہنچایا، کتنے نوجوانوں نے لاوارث لاشوں کی تدفین کی ذمہ داری اپنے کندھوں پر لی۔ سیلاب کے دنوں میں اپنی جان جوکھم میں ڈال کر بہتی گاڑیوں اور زیرِ آب علاقوں میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات تک پہنچایا گیا۔ سڑک حادثات ہوں یا قدرتی آفات، بارہا ایسے مناظر سامنے آئے جہاں عام مسلمان نوجوان دوسروں کی جان، راحت اور سلامتی کے لیے سب سے آگے دکھائی دیے۔یہی وہ حقیقت ہے جو مالویہ نگر جیسے واقعات ہمیں پھر یاد دلاتی ہے:مسلم نوجوان وہ نہیں ہیں جو ان کے بارے میں تصور قائم کیا جاتا ہے۔وہ اپنی اسلامی نسبت، گھریلو تربیت اور اخلاقی اقدار کے ساتھ خاموشی سے معاشرے کے لیے خیر کا سبب بن رہے ہیں۔ وہ آگ لگنے پر جان بچانے دوڑتے ہیں، مصیبت میں راشن پہنچاتے ہیں، خون دیتے ہیں، زخمیوں کو اسپتال پہنچاتے ہیں، اور بعض اوقات — جیسا کہ مالویہ نگر میں ہوا — اپنی روزی روٹی تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔یہ محض سماجی خدمت نہیں۔یہ ایک اخلاقی رویہ ہے۔یہ وہ تربیت ہے جس میں انسان کو سکھایا جاتا ہے کہ تکلیف میں مبتلا شخص کی مدد کی جائے، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ شاید اسی لیے مسلمانوں کے یہاں خدمتِ خلق صرف ایک سماجی سرگرمی نہیں بلکہ دین داری، اخلاق اور ایمان کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔

یہ خاموش تربیت قوموں کے اخلاقی مستقبل کی بنیاد بنتی ہے۔یقیناً بہادری کسی ایک مذہب یا برادری کی جاگیر نہیں۔ انسانیت ہر دل میں پیدا ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسے واقعات اس لیے اہم ہیں کہ یہ تعصبات کو کمزور کرتے ہیں، بدگمانیوں کو چیلنج کرتے ہیں، اور یہ یاد دلاتے ہیں کہ اصل شناخت اکثر نعروں میں نہیں، کردار میں ظاہر ہوتی ہے۔جب مالویہ نگر کی آگ کی تحقیقات مکمل ہو جائیں گی، خبریں پرانی پڑ جائیں گی اور لوگ آگے بڑھ جائیں گے، تب بھی شاید ایک تصویر ذہن میں باقی رہے گی:دھوئیں سے بھری گلی۔اوپر پھنسے ہوئے لوگ۔ نیچے بچھے گدّے۔ کچھ نوجوان آگ کی طرف دوڑتے ہوئے۔اور ایک عام مسلمان دکاندار، ریاض الدین منصوری، جو شاید یہ سوچنے کے بجائے کہ اس کا کتنا نقصان ہوگا، صرف یہ سوچ رہا تھا:’’کسی کی جان بچ جانی چاہیے۔‘‘شاید نفرت کے شور میں مسلمانوں کا سب سے باوقار جواب یہی ہے — کردار، خدمت اور انسان دوستی۔ کیونکہ قوموں کی اصل پہچان الزامات سے نہیں، بلکہ ان کے لوگوں کے اخلاق سے بنتی ہے۔ اور اگر مالویہ نگر کی آگ میں کچھ روشن ہوا ہے تو وہ یہی حقیقت ہے کہ بدگمانیوں کے باوجود انسانیت کی یہ شمع ابھی بجھی نہیں۔


Share: