رائے پور، 8/ جولائی (ایس او نیوز /ایجنسی)’’بی جے پی کی حکومت صرف چند سرمایہ داروں کے مفاد کی سیاست کر رہی ہے۔ جب بھی اڈانی یا امبانی جیسے دوستوں کو زمین، پانی یا قدرتی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے، تبھی امت شاہ اور مودی جی یاد آتے ہیں کہ کہاں دورہ کرنا ہے، کس ریاست کا خزانہ خالی کرنا ہے۔ آج چھتیس گڑھ کے قبائلی علاقوں میں جو لوٹ مار ہو رہی ہے، وہ اسی سرمایہ دار نواز پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اور ریاست کے وزیر اعلیٰ کی حالت یہ ہے کہ دہلی سے جو حکم آتا ہے، اسی کو قانون مانتے ہیں—نہ عوام کی فکر، نہ آئین کی پرواہ۔ یہ چھتیس گڑھ کے عوام کی خودداری کو مٹانے کی سازش ہے۔ ہم اس کے خلاف آخری دم تک آواز بلند کرتے رہیں گے۔‘‘
کانگریس صدر نے ریلی میں عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’میرا چھتیس گڑھ کی عوام سے ایک خاص رشتہ ہے۔ رائے پور میں میری صدارت میں فروری 2023 میں کانگریس کنونشن ہوا تھا۔ یہاں 15 ہزار نمائندوں نے میرے انتخاب پر اپنی مہر لگائی تھی۔ رائے پور سے سماجی انصاف کا جو نعرہ بلند ہوا، اس نے 2024 میں مودی حکومت کے تکبر کو روکا۔ آئین بدلنے سے متعلق ان کے ارادے پر زبردست چوٹ کی۔ ملک کی عوام نے اپوزیشن کو تاریخی فتح دی۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ہمارے وزیر اعلیٰ، کارکنان، لیڈران کو ڈرانے کی کوشش کی،ک لیکن چھتیس گڑھ کے لوگ ڈرے نہیں، انھوں نے منھ توڑ جواب دے کر کنونشن کو کامیاب بنایا۔‘‘
سابق وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کو یاد کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ ’’پنڈت نہرو نے آزادی کی جنگ لڑنے کے لیے ’نیشنل ہیرالڈ‘ کی شروعات کی تھی، جسے بعد میں سونیا گاندھی نے شروع کیا تو ان پر بھی فرضی کیس کر دیا، جس کی جانچ میں کچھ نہیں نکلا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس کی بھوپیش بگھیل کی قیادت والی حکومت نے کسانوں، مزدوروں، قبائلیوں اور ہر طبقہ کے لیے کام کیا تھا۔ دھان کا ایم ایس پی بڑھایا، قرض معافی کی، قبائلیوں کو حق دیا، سوامی آتمانند اسکول اور ہاٹ بازار کلینک شروع کیا، خواتین نوجوانوں سے لے کر مقامی ثقافت و تہواروں تک کا دھیان رکھا، لیکن بی جے پی حکومت بنتے ہی اپنے ودوں کو بھول گئی۔ چھتیس گڑھ میں آج کسان سے لے کر نوجوان سبھی دھوکہ محسوس کر رہے ہیں۔‘‘
کچھ اہم حقائق کو پیش کرتے ہوئے کانگریس صدر کھرگے نے کہا کہ ’’سوال یہ ہے کہ بی جے پی کے لوگ ایسا کیا کر رہے ہیں جس کے لیے 25-2024 اور 26-2025 میں ان کو 37 ہزار کروڑ روپے کا قرض لینا پڑا ہے۔ آبکاری گھوٹالے پر بڑی باتیں بی جے پی نے کی تھی، اب ان کی حکومت میں شراب کی 67 دکانیں مزید کھول دی گئیں۔ ایک طرف شراب کو فروغ دے رہے ہیں، دوسری طرف 10463 اسکولوں کو بند کرنے جا رہے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان بستر اور سرگوجا کے قبائلی علاقوں میں ہوگا۔ بی جے پی یہی چاہتے ہے کہ غریب، دلت اور قبائلی کے بچے نہ پڑھیں، اور نہ سوال پوچھیں۔‘‘
عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کھرگے نے کہا کہ ’’میں چھتیس گڑھ کی عوام سے اپیل کرتا ہوں، خاموش نہ بیٹھیں۔ اپنے پیارے علاقہ چھتیس گڑھ کو پھر سے ترقی کے راستے پر لے جانے کے لیے میدان میں اتریں۔ اپنے حق اور حقوق کے لیے جنگ لڑنے کا کام کریں۔ اس خوبصورت ریاست کو مفاد پرست سرمایہ کاروں کا چراگاہ نہ بننے دیں۔‘‘ انھوں نے عوام سے یہ بھی اپیل کی کہ ’’چھتیس گڑھ کو بچانے، جمہوریت اور آئین کو بچانے کی اس جنگ میں آپ ہمارا ساتھ دیجیے۔ ہم مل کر اس ریاست کو اور ملک کو مضبوط بنائیں گے۔‘‘