ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / بغیر وجہ بتائے گرفتاری بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، سپریم کورٹ کی پولیس کو قانون کی پیروی کی ہدایت

بغیر وجہ بتائے گرفتاری بنیادی حقوق کی خلاف ورزی، سپریم کورٹ کی پولیس کو قانون کی پیروی کی ہدایت

Sat, 08 Feb 2025 13:40:15    S.O. News Service

نئی دہلی ، 8/فروری (ایس اونیوز/ایجنسی) سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا کہ کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے سے قبل اس کی گرفتاری کی وجہ بتانا محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ ایک آئینی ضرورت ہے۔ جسٹس ابھئے ایس اوکا اور جسٹس نوگمئی کاپم کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے واضح کیا کہ پولیس اگر اس حکم پر عمل نہیں کرتی، تو یہ آئین کی دفعہ 22 کے تحت بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہوگا۔

جج نے کہا، "گرفتار کیے گئے شخص کو گرفتاری کی بنیاد کے بارے میں اطلاع کرنا رسمی نہیں بلکہ لازمی آئینی ضرورت ہے۔ دفعہ 22 کو آئین کے حصہ 3 میں بنیادی حقوق کے عنوان کے تحت شامل کیا گیا ہے۔ اس طرح گرفتار اور حراست میں لیے گئے شخص کا یہ بنیادی حق ہے کہ اسے جلد سے جلد گرفتاری کی وجہ کے بارے میں مطلع کیا جائے۔"

جسٹس این کے سنگھ نے کہا کہ گرفتاری کی بنیاد کے بارے میں صرف گرفتار شخص کو نہیں بلکہ اس کے ذریعہ نامزد دوستوں، رشتہ داروں یا دیگر لوگوں کو بھی بتانا چاہے تاکہ وہ قانونی عمل کے توسط سے گرفتاری کو چیلنج کرکے اس کی رہائی کو یقینی کر سکیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ پنکج بنسل بمقابلہ حکومت ہند کے معاملے میں، اس نے مشورہ دیا تھا کہ گرفتاری کی بنیاد کو مطلع کرنے کا مناسب اور اور مثالی طریقہ گرفتاری کی بنیاد کو تحریری طور پر فراہم کرنا ہے۔ حالانکہ اس میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کی بنیاد کو تحریری طور سے مطلع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، لیکن اگر تحریری طریقہ پر عمل کیا جاتا ہے تو "غیر-عمل کے بارے میں تنازعہ بالکل بھی پیدا نہیں ہوگا۔"

جسٹس اوکا نے کہا، "بھلے ہی گرفتاری کی بنیاد تحریری طور سے دینے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اسے تحریری شکل میں دینے سے تنازعہ ختم ہو جائے گا۔ پولیس کو ہمیشہ دفعہ 22 کی ضروریات پر سختی سے عمل کرنا چاہیے۔"


Share: