باگلکوٹ، 15/ مارچ (ایس او نیوز /ایجنسی) وزیراعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ مرحوم ایچ وائی میٹی کی دیرینہ کوششوں اور عوامی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے باگلکوٹ میں سرکاری میڈیکل کالج کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وہ ہفتہ کے روز باگلکوٹ کے نونگر علاقہ میں واقع ہیلی پیڈ پر نامہ نگاروں سے بات چیت کر رہے تھے۔ وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ حکومت مرحوم میٹی کے ترقیاتی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے عوامی فلاح کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا رہی ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے کرشنا اپر پراجیکٹ کے لیے بجٹ میں فنڈ مختص نہ کیے جانے کے الزام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ منصوبے سے متاثرہ افراد کو معاوضے کے چیک کی تقسیم کا عمل آج سے شروع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تین سے چار برسوں کے اندر تمام متاثرین کو معاوضہ فراہم کر دیا جائے گا۔
ریاست میں ای-سوتھو سے متعلق مسائل پر بات کرتے ہوئے سدارامیا نے کہا کہ اس مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات دور ہوں۔
بی جے پی کی جانب سے میڈیکل کالج کے سنگِ بنیاد کو انتخابی چال قرار دینے پر ردعمل دیتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے سوال اٹھایا کہ جب بی جے پی چار سال تک اقتدار میں تھی تو اس نے میڈیکل کالج کیوں قائم نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری ہو چکا ہے اور ایجنسی بھی طے ہو چکی ہے، اس لیے اب عملی طور پر کام شروع ہونے جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں سنگِ بنیاد رکھا جا رہا ہے۔
ضمنی انتخابات کے امیدواروں کا فیصلہ ہائی کمان کرے گی۔ باگلکوٹ اور داونگیرے کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ امیدواروں کے انتخاب کا فیصلہ پارٹی ہائی کمان کرے گی۔ میڈیا کے اس سوال پر کہ آیا مرحوم ایچ وائی میٹی کے خاندان کے کسی فرد کو ٹکٹ دیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ وہ بھی امیدواروں میں شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ضمنی انتخابات کا اعلان ایک ہفتے کے اندر ہونے کا امکان ہے اور پارٹی اس کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
گیس سلنڈروں کی فراہمی کے مسئلے پر وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس کی ذمہ داری مرکزی حکومت کی ہے۔ ریاستی حکومت مرکز کی جانب سے فراہم کیے گئے سلنڈروں کی تقسیم کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی وزیرِ خوراک اس سلسلے میں دو اجلاس منعقد کر چکے ہیں اور مرکزی وزیر کو خط بھی لکھا گیا ہے تاکہ سلنڈروں کی کمی نہ ہونے دی جائے۔
اندرونی ریزرویشن کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیرِ اعلیٰ نے کہا کہ اس موضوع پر 27 مارچ کو ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔