ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گجرات کے وڈودرا ضلع میں پرانا پل منہدم، کم از کم 12 افراد ہلاک

گجرات کے وڈودرا ضلع میں پرانا پل منہدم، کم از کم 12 افراد ہلاک

Thu, 10 Jul 2025 08:07:35    S O News
گجرات کے وڈودرا ضلع میں پرانا پل منہدم، کم از کم 12 افراد ہلاک

وڈودرا، گجرات 10/جولائی (ایس او نیوز): گجرات کے وڈودرا ضلع میں مہیساگر ندی پر واقع ایک پرانا پل منگل کی صبح اچانک منہدم ہوگیا، جس کے نتیجے میں کم از کم 12 افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہوگئے۔ حادثے کے وقت کئی گاڑیاں پل پر موجود تھیں، جو ندی میں جا گریں۔ واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر راحت و بچاؤ کی کارروائیاں کی گئیں۔

یہ حادثہ صبح تقریباً 7:30 بجے گمبھیرہ پل پر پیش آیا، جو پادرا تعلقہ کے موج پور گاؤں کو آنند ضلع کے گمبھیرہ گاؤں سے جوڑتا ہے۔ یہ پل 1980 کی دہائی میں تعمیر کیا گیا تھا اور مقامی لوگوں نے اس کی خستہ حالت کی پہلے بھی شکایت کی تھی۔

عینی شاہدین اور بچ جانے والوں کا بیان

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثے کے وقت کم از کم سات گاڑیاں—جن میں ایک چھوٹا ٹرک، آٹو رکشہ اور دو پہیہ گاڑیاں شامل تھیں—پل پر موجود تھیں۔ ان گاڑیوں کو لے کر پل ندی میں گر گیا۔

ایک زندہ بچ جانے والی خاتون، سونلبین پدھیار نے بتایا کہ وہ اپنے شوہر اور بیٹے کے ساتھ سفر کر رہی تھیں جب اچانک پل نیچے گر گیا۔ "میرے شوہر اور بیٹا پانی میں بہہ گئے، میں ایک گاڑی کے اوپر بیٹھ کر تقریباً ایک گھنٹے تک مدد کے لیے پکارتی رہی۔" ان کی حالت نہایت افسردہ تھی۔

بچاؤ کارروائیاں اور ہلاکتوں کی تصدیق

مقامی فائر بریگیڈ، پولیس، اور این ڈی آر ایف ٹیموں نے فوری طور پر موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کیں۔ کم از کم 12 لاشیں ندی سے نکالی گئیں اور 9 سے زائد افراد کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔ بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

ضلع کلکٹر اتول گور نے بتایا کہ “ہم آنند ضلع کے حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں کیونکہ پل دونوں اضلاع کے درمیان واقع ہے۔ فوری ریلیف اور بچاؤ کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے ہیں۔”

خستہ حال پل اور تحقیقات

اطلاعات کے مطابق یہ پل 40 سال سے زائد پرانا تھا اور مبینہ طور پر ساختی کمزوری اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے منہدم ہوا۔ مقامی افراد کئی مرتبہ متعلقہ محکمے کو پل کی خستہ حالت کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔

روڈ اینڈ بلڈنگ ڈپارٹمنٹ نے اس حادثے کی تکنیکی جانچ شروع کر دی ہے تاکہ پل کے منہدم ہونے کی اصل وجہ کا پتہ چلایا جا سکے۔

حکومت کی جانب سے ردعمل اور معاوضے کا اعلان

وزیراعلیٰ بھوپندر پٹیل نے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور ہلاک شدگان کے لواحقین کے لیے 4 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے 50 ہزار روپے کی مالی امداد کا اعلان کیا۔ انہوں نے متعلقہ محکموں کو تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے پی ایم ریلیف فنڈ سے ہلاک شدگان کے لواحقین کو 2 لاکھ روپے اور زخمیوں کو 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے بھی واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور ہلاک شدگان کے اہل خانہ سے ہمدردی ظاہر کی۔

ٹریفک کی روانی متاثر، متبادل راستے کا استعمال:

پل کے منہدم ہونے کے بعد آمد و رفت کے لیے قریبی متبادل راستوں کا استعمال کیا جا رہا ہے، خاص طور پر وساد کے راستے گاڑیوں کا رخ موڑا گیا ہے، جس سے سفر میں تقریباً 50 کلومیٹر کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے وساد-وڈودرا روڈ پر ٹول ناکوں پر طویل ٹریفک جام کی شکایات موصول ہو رہی ہیں۔

سیاسی ردعمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ

حزبِ اختلاف نے حادثے کو انتظامیہ کی ناکامی قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گجرات کانگریس کے ترجمان منیش دوشی نے الزام لگایا کہ “مقامی لوگوں کی متعدد وارننگز کے باوجود حکومت نے پل کی حالت کو سنجیدگی سے نہیں لیا، یہ سراسر لاپرواہی ہے۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ افسران کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے اور ذمہ داروں کو سخت سزا دی جائے۔

 یاد رہے کہ 2022 میں موربی کا معلق پل گرنے کے واقعے میں 141 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس پر ریاست گیر سطح پر غم و غصہ دیکھنے کو ملا تھا۔ موجودہ حادثے کے بعد ایک بار پھر پرانے پلوں کے معائنے اور مرمت پر زور دیا جا رہا ہے۔


Share: