گاندھی نگر:4دسمبر(ایجنسی) گجرات ہائی کورٹ نے گزشتہ 33 سالوں سے زیر التوا ایک مقدمہ میں مدعا علیہ کے وکیل کو بحث کی ہدایت دیتے ہوئے انتباہ دیا کہ اگر ایسا نہ کیا تو ان پر ایک لاکھ روپے کا جرمانے عائد کیا جائے گا۔ چیف جسٹس اروند کمار اور آشوتوش جے شاستری کی ڈیویژن بنچ نے یہ کہتے ہوئے معاملے کو ملتوی کرنے سے انکار کر دیا کہ عرضی گزشتہ 33 سالوں سے ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔دراصل، ایڈوکیٹ آدتیہ بھٹ نے بنچ سے مقدمہ کی سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے دلیل دی کہ وہ اس مقدمے میں پہلی بار پیش ہو رہے ہیں۔ وکیل نے کہا کہ ہاتھ جوڑ کر عدالت سے کیس ملتوی کرنے کی درخواست کرتا ہوں۔ اس کے جواب میں ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اروند کمار نے کہاکہ ہم بھی ہاتھ جوڑ رہے ہیں، براہ کرم کیس کو آگے بڑھائیں۔ کیس کو ملتوی کرنے کے مطالبے سے ناراض جسٹس نے خبردار کیا کہ وہ جرمانہ عائد کریں گے۔وکیل کی استدعا پر عدالت نے کہا کہ اپیل خارج کر دی جائے گی۔ پھر سپریم کورٹ جائیں اور بتائیں یہاں کیا ہو رہا ہے؟ پہلی اپیل 33 سال سے زیر التوا ہے کیونکہ وکلا اس معاملہ میں بحث نہیں کر رہے ہیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ معاشرے کیلئے ایک پیغام ہوگا۔گجرات ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اروند کمار نے طنز کرتے ہوئے مزید کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کوس سکتے ہیں لیکن براہ کرم بحث کریں۔ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ وہ عدالت کو کوسنے کا کبھی سوچ بھی نہیں سکتے، وہ عدالت کو صرف دعا دیں گے۔ اس پر چیف جسٹس کمار نے اصرار کیا کہ اگر آپ ہمیں دعا دینا چاہتے ہیں تو مقدمہ پر بحث کر کے ہمیں دعا دیں۔وکیل نے بنچ کو بتایا کہ ان کے پاس بحث کیلئے کاغذات نہیں ہیں۔ تاہم چیف جسٹس نے اس کی کاپی وکیل کو دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے پر دلائل دیں۔ بنچ نے کمرہ عدالت میں ہی کاغذات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اپنے دلائل تیار کرنے کیلئے ایک گھنٹے کا وقت دیا۔ بنچ نے واضح کیا کہ اس کی فکر ان تمام مقدمات کو نمٹانا ہے جو پچھلے 25 سال یا اس سے زیادہ عرصے سے زیر التوا ہیں۔ بنچ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ ان تمام پرانے مقدمات کو ترجیح دے گی جو پچھلے 40 سے 50 سالوں سے زیر التوا ہیں۔