نئی دہلی ، 12/ اگست (ایس او نیوز /ایجنسی)ووٹ چوری‘ اور بہار میں ووٹرلسٹ کی خصوصی نظر ثانی کے خلاف لڑائی کو پارلیمنٹ سے سڑک پر اتارتے ہوئے لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملکارجن کھرگے نے تقریباً۳۰۰؍ اراکین پارلیمان کی قیادت کرتے ہوئے پیر کی صبح اعلان کے مطابق الیکشن کمیشن کے صدر دفتر تک مارچ کیا مگر پولیس نے راستے میں ہی انہیں روک دیا اور تمام سینئر لیڈروں کو حراست میں لے لیا۔
’’ ووٹ چوری بند کرو ‘‘،’’ایس آئی آر مسترد کرو‘‘ کے نعرے کے ساتھ سڑک پر اترے اراکین پارلیمان کو پولیس نے پارلیمنٹ کی عمار ت کے قریب ہی پی ٹی آئی بلڈنگ کے سامنے روک دیا اور حراست میں لے لیا مگر وہ مظاہرہ کو روک نہیں سکی۔ پولیس تحویل میں بھی اراکین پارلیمان مذکورہ نعرے لگاتے رہے۔ ساتھ ہی انہوں نے ’’مودی شاہ کائر(بزدل) ہیں‘‘ کا نعرہ لگانا بھی شروع کردیا۔ اس سے قبل پولیس نے جب اپوزیشن کے لیڈروں کو روکنے اور حراست میں لینے کی کوشش تو افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا۔اپوزیشن کے اراکین وہیں دھرنے پر بیٹھ گئے۔ سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو پولیس کی رکاوٹوں کو چھلانگ کر آگے بڑھتے نظر آئے جبکہ ترنمول کانگریس کی ممبر پارلیمنٹ مہوا موئترا اور سشمتا دیو نے بھی اس کی کوشش کی۔ اس دوران موئترا اور ٹی ایم سی کی ہی رکن پارلیمان متالی بیگ بیہوش ہوگئیں۔کئی ممبران پارلیمنٹ کی پولیس کے ساتھ جھڑپ بھی ہوئی مگر پولیس نعرہ بازی روکنے میں ناکام رہی۔
پولیس نے کانگریس کے صدر ملکا رجن کھرگے،راہل گاندھی، پرینگا گاندھی ، ورشا گائیکواڈ،اکھلیش یادو،سنجے راوت،پرینکا چترویدی اور دیگر رہنماؤں کوحراست میں لے کر قریبی پولیس اسٹیشن پہنچادیا۔ ٹی ایم سی لیڈر ڈیرک او برائن نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ پولیس نے حراست میں لے کر وین میں بٹھاتے ہوئے کہاتھا کہ انہیں الیکشن کمیشن کے دفتر لے جایا جارہاہے مگر قریبی پولیس اسٹیشن پہنچا دیاگیا۔ بہرحال اراکین پارلیمان اس دوران بھی نعرہ لگانے کے ساتھ وہ پلے کارڈ لہراتے رہے جس میں ’’ووٹ چوری بند کرو‘‘ کا نعرہ لکھا ہوا تھا۔
راہل گاندھی نے حکومت کو متنبہ کیا کہ یہ معاملہ یہیں ختم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ لڑائی آئین اور جمہوریت کے تحفظ اور ووٹ دینے کے حق کی لڑائی ہے۔ الیکشن کمیشن سے ’’صاف ستھری ووٹر لسٹ‘‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے راہل گاندھی نے حکومت اور الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا کہ انہوں نے جن بے ضابطگیوں کی طرف نشاندہی کی ہے وہ کسی ایک حلقے تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے ملک کی ووٹر لسٹ ایسی دھاندلیاں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ بہت جلد ’’پھٹ پڑے‘‘گا۔ پولیس نے جب انہیں حراست میں لے رکر بس میں بٹھایا تو انہوںنے بس کی کھڑکی سے نامہ نگاروں سے بات چیت کی اور کہا کہ ’’ووٹ چوری کی حقیقت ملک کے سامنے آگئی۔یہ لڑائی سیاسی نہیں، آئین کو بچانے کی لڑائی ہے۔یہ ’ایک شخص ایک ووٹ ‘کی لڑائی ہے۔