ولکی 11/اگست (ایس او نیوز) ہوناورتعلقہ کے شراوتی بیلٹ کے مسلم بچوں میں تعلیمی بیداری پیدا کرنے، اُنہیں تعلیم کے میدان میں آگے بڑھانے اورایس ایس ایل سی میں ٹاپ کرنے والے ہونہارمسلم بچوں کی ہمت افزائی کے لئے ہرسال کی طرح امسال بھی شراوتی مسلم کونسل کی طرف سے ولکی کے اتحاد پبلک اسکول میں تعلیمی ایوارڈ کی شاندار تقریب منعقد کی گئی جس میں مہمان خصوصی کے طورپربھٹکل سے تشریف فرما حمزہ جمعہ مسجد کے خطیب اور جامعہ اسلامیہ بھٹکل کے استاد مولانا محمد اقبال نائطے ندوی نے تعلیم کی اہمیت پر پُرزورخطاب کرتے ہوئے بتایا کہ ایک ایسے ماحول میں جب قتل و غارت گری، زناء کاری، شراب نوشی اور ہر طرح کی دیگر برائیاں عروج پر تھیں،اللہ تعالیٰ نے جس پیغام کے ذریعے ان کی اصلاح کاآغاز کیا وہ اقراء تھا۔ مولانا نے اپنے پیغام میں ہر طرح کی برائیوں کو دور کرنے کے لئے صرف تعلیم حاصل کرنے پرزوردیا اور کہا کہ تعلیم کے ذریعے ہی ظلمتوں اورتاریکیوں کے پردوں کو چاک کیا جاسکتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارا دین اقراء کا دین ہے اور دین کا آغاز ہی اقراء سے ہوا ہے۔ کئی آیتوں کو ترجمہ کے ساتھ پیش کرتے ہوئے مولانا نے کہا کہ قران مجید میں کتنی ہی آیتیں ایسی ہیں جس میں انسانوں کواللہ تعالیٰ کی تخلیق پرغورکرنے کی دعوت دی گئی ہے اسلام نے صرف نماز، زکواۃ، حج اورعمرے کی تعلیمات کوعلم نہیں کہا ہے بلکہ اس کائنات کی ہر چیز اور للہ تعالیٰ کی ہرتخلیق پر غور کرنا، اس کی تحقیق کرناعلم میں شامل ہے۔ مولانا نے واضح کیا کہ قرون اولیٰ میں دینی اوردُنیوی علوم میں کوئی تفریق نہیں تھی۔ مزید بتایا کہ 16 ویں صدی سے پہلے یوروپ پر ضلالت اورجہالت کی چادرچڑھی ہوئی تھی، اُن کے اندرعلم کا نام و نشان نہیں تھا، لیکن مسلمانوں کی کتابوں کےذریعے انہوں نےعلم پر عبورحاصل کیا۔ اس تعلق سے مولانا نے کئی کتابوں اوراُس وقت کے ماہرین تعلیم کی مثالیں پیش کیں اورزور دے کر بتایا کہ دنیا کا تمام علوم اسلام کی معراج اور مسلمانوں کا ورثاء ہے۔
اس موقع پرتعلیمی ایوارڈ کے تعلق سے شراوتی مسلم کونسل کےذمہ دارمظفریوسف شیخ نے بتایا کہ سن 2015 سے ہوناور تعلقہ کے شراوتی بیلٹ یعنی کڈلوری، گیرسوپّا، سڑلگی، شمسی، ہوناور، اُپّونی، ولکی، کُروا اور ہیرانگڈی کے آُن بچوں کوجنہوں نے ایس ایس ایل سی میں 85 یا اس سے زائد مارکس حاصل کئے ہوں ہرسال تعلیمی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے، اسی طرح شراوتی بیلٹ میں حفظ قران مکمل کرنے والوں کو بھی یہ ایوارڈ دیا جاتا ہے جبکہ سکینڈ پی یو سی میں بیلٹ کے ایک ہونہاراسٹوڈینٹ کو بھلے وہ کسی بھی مذہب سے ہوں ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔اس بار جن طلبہ کو ایوارڈ سے نوازا گیا، اُن کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے:
حفظ مکمل کرنے والے:
گیرسوپا کی افزاء اسلم اڑکا (مدرسہ اصلاح البنات بھٹکل)
سڑلگی سے فیضان ابن عبدالشکور(جامعہ اسلامیہ بھٹکل)
ولکی سے ذوالکیف ابن جیلانی پوٹلی (مدرسہ عمر فاروق، ولکی)
ولکی سے عبداللہ ابن سلطان فخرو (مدرسہ عمر الفاروق، ولکی)
ایس ایس ایل سی:
ہیرانگڈی کی تبصیرہ بنت خواجہ باپوجی، مارتوس انگلش اسکول، ہوناور، 85 فیصد مارکس
سمشی سے عمرذوالفقار تلکھنی، ایس ایس ایف کوڈانی اسکول، 90.5 فیصد
سرلگی سے احلام محمد یعقوب شیخ، شری ماروتی ریزیڈنسی اسکول، گیرسوپا، 91 فیصد
گیرسوپا کے محمد ولید عبدالقادر کولکار، مارتوس انگلش اسکول ہوناور 92 فیصد
ولکی سے تفھیم بنت عبدالعلیم بونگیا، سری سدی ونائک اسکول ولکی 96.16 فیصد
سکینڈ پی یو سی میں 98 فیصد مارکس کے ساتھ پورے ہوناور میں ٹاپ کرنے والی ہوناورایس ڈی ایم کالج کی پریتی ناگراج نائک کو بھی شراوتی کونسل کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
تلاوت کلام پاک مع ترجمہ سے پروگرام کا آغازہوا، نعت اور شراوتی مسلم کونسل کے ترانہ کے بعد کونسل کے ذمہ داراسلم شیخ نے مہمانوں کا تعارف پیش کرتے ہوئے حاضرین کا استقبال کیا۔ شراوتی مسلم کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹرعبداللہ سکری نے شراوتی کونسل کی رپورٹ پیش کی، جناب مظفرشیخ نے اتحاد پبلک اسکول کا تعارف پیش کیا۔
بھٹکل مسلم خلیج کونسل کے سکریٹری جنرل ڈاکٹرعتیق الرحمن منیری، بھٹکل مسلم جماعت دبئی کے سابق صدرمحمد اشفاق سعدا اورانجمن حامئی مسلمین بھٹکل کےکالج بورڈ سکریٹری محی الدین رکن الدین نے اپنے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے تمام انعام یافتگان کو مبارکباد پیش کی اور مستقبل میں بھی اسی طرح کامیابی حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
بھٹکل مسلم جماعت منطقۃ الشرقیہ کے ذمہ داراورمعروف بزنس ٹائکون ارشاد صدیقہ، بھٹکل کمیونٹی جدہ کے سرگرم رکن قمرسعدا، بھٹکل مسلم جماعت دبئی کے صدرعبدالمُعزمعلم، جناب کے ایم برہان، اسماعیل جوباپو، عبدالسمیع کولا، شراوتی مسلم کونسل کے فاونڈرممبرجناب حُسین جناب سمیراور جناب احمد فقیہ منّا سمیت کافی دیگرذمہ داران موجود تھے۔ شراوتی مسلم کونسل کے صدر جناب خواجہ ابکار کے صدارتی خطاب اور ان ہی کے کلمہ تشکرپر جلسہ اختتام کو پہنچا۔