ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ایس آئی آر میں پاسپورٹ بدستور قابلِ قبول دستاویز، الیکشن کمیشن کی وضاحت

ایس آئی آر میں پاسپورٹ بدستور قابلِ قبول دستاویز، الیکشن کمیشن کی وضاحت

Fri, 26 Jun 2026 09:33:34    S O News

نئی دہلی 26/جون (ایس او نیوز): وزارتِ خارجہ (MEA) کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آنے کے بعد کہ پاسپورٹ بنیادی طور پر ایک سفری دستاویز ہے اور اسے شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاتا، ملک میں جاری اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مہم کے دوران پاسپورٹ کی حیثیت پر بحث چھڑ گئی۔ اس کے بعد الیکشن کمیشن آف انڈیا (ECI) نے واضح کیا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے لیے مطلوبہ معاون دستاویزات میں پاسپورٹ بدستور شامل ہے اور اسے قبول کیا جائے گا۔

الیکشن کمیشن کے حکام نے کہا کہ جاری ایس آئی آر مہم کے دوران ووٹروں کی شناخت اور اہلیت کی جانچ کے لیے جن 12 قابلِ قبول دستاویزات کی فہرست مقرر کی گئی ہے، ان میں انڈین پاسپورٹ پہلے کی طرح شامل ہے۔ حکام کے مطابق اس سلسلے میں کسی قسم کی پالیسی میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

کمیشن کے مطابق پاسپورٹ کو بہار میں منعقدہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن، آسام کی خصوصی نظرثانی اور بعد کی انتخابی نظرثانی مہموں میں بھی قبول کیا جاتا رہا ہے۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا کہ “پاسپورٹ پہلے بھی قابلِ قبول دستاویز تھا اور اب بھی ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔”

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب وزارتِ خارجہ کے بعض حکام نے پاسپورٹ سیوا دیوس کے موقع پر کہا تھا کہ پاسپورٹ کا بنیادی مقصد بین الاقوامی سفر کو ممکن بنانا ہے اور اسے قانونی اعتبار سے شہریت کا حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاتا۔ اس بیان کے بعد مختلف حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا تھا کہ آیا ایس آئی آر کے دوران پاسپورٹ کو بھی مسترد کیا جا سکتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے تاہم واضح کیا کہ وزارتِ خارجہ کے بیان اور انتخابی عمل میں استعمال ہونے والی معاون دستاویزات کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر کے لیے پاسپورٹ ان دستاویزات میں شامل ہے جن کی بنیاد پر ووٹر کی شناخت اور اہلیت کے عمل میں معاونت حاصل کی جاتی ہے، جبکہ کسی بھی معاملے میں حتمی فیصلہ انتخابی رجسٹریشن افسر (ERO) متعلقہ قوانین اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کرتا ہے۔

سرکاری ذرائع نے بھی واضح کیا ہے کہ گزشتہ 12 برسوں میں حکومت نے پاسپورٹ کی قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی نئی پالیسی نافذ نہیں کی۔ ان کے مطابق پاسپورٹ کو کبھی بھی شہریت کا واحد اور قطعی ثبوت قرار نہیں دیا گیا، تاہم انتخابی نظرثانی کے عمل میں یہ ایک قابلِ قبول معاون دستاویز کے طور پر پہلے کی طرح برقرار ہے۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن مہم کا مقصد ووٹر فہرستوں کو تازہ کرنا، دوہری اندراجات، انتقال کر جانے والے یا مستقل طور پر منتقل ہو جانے والے افراد کے ناموں کی نشاندہی کرنا اور صرف اہل ووٹروں کے نام انتخابی فہرست میں برقرار رکھنا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس پورے عمل کا مقصد انتخابی فہرستوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔


Share: