ہوناور 25/اگست (ایس او نیوز): پیٹ کے درد کا علاج کرتے کرتے اسپتال میں ہی انتقال کر جانے والے محمد آصف معاملے میں متعلقہ اسپتال اور ڈاکٹروں کے خلاف کاروائی کرنے اور مرحوم آصف کے اہل خانہ کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے جمعہ کو ہوناور کے عوام نے احتجاجی ریلی نکالتے ہوئے تحصیلدار کے توسط سے حکومت اور گورنر کو میمورنڈم پیش کیا۔احتجاج شراوتی سرکل سے شروع ہوا، جہاں عوام بڑی تعداد میں جمع ہوئے تھے۔ احتجاجیوں نے سری دیوی اسپتال اور ڈاکٹروں سمیت میڈیکل مافیا کے خلاف نعرے لگائے
نوجوان محمد ابراہیم آصف کو سری دیوی اسپتال میں پیٹ میں درد کے علاج کے لیے داخل کرایا گیا تھا۔ اسپتال کے ڈاکٹر بھارگو شیٹی اور ڈاکٹر کشن راج اس کا علاج کررہے تھے، جس کے دوران حالت بگڑنے لگی تو منی پال اسپتال روانہ کیا گیا مگر اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔ احتجاجیوں نےشک کا اظہار کیا ہے کہ مناسب علاج نہ کئے جانے یا لاپرواہی کی وجہ سے ہوناور میں ہی اس کی موت واقع ہوئی ہوگی، اس لئے اس کی تحقیقات ہونی چاہئیے اور خاطیوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہئے۔
احتجاجیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی اسپتال کا لائسنس منسوخ کیا جائے ۔
دونوں ڈاکٹروں کو گرفتار کرکے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اور مرحوم کے لواحقین کو مناسب معاوضہ دلاتے ہوئے انصاف کیا جائے۔
وزیر اعلیٰ ، گورنر، وزیر داخلہ، وزیر صحت اور ضلع انچارج وزیر کے نام میمورنڈم کو ہوناور تحصیلدار روی راج دکشھیت نے وصول کیا، یادداشت کی نقول تحصیلدار کی ہی معرفت ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کو بھی دی گئی ہے۔
ایس ڈی پی آئی ضلع صدر محمد توفیق بیری کوروا گرام پنچایت ممبر ابراہیم صاحب، ہوناور تنظیم کے صدر محمد علی صاحب، دیگر ممبران، مختلف تنظیموں کے قائدین اور عوام الناس موجود تھے۔ بھٹکل ڈی وائی ایس پی سری کانت، سی پی آئی تھیمپا نائک، پی ایس آئی مہانتیش نائک، سمپتھ کمار سمیت پولس اہلکاروں نے سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے۔