نئی دہلی، 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج کہاکہ انڈونیشیا میں منشیات معاملہ میں ہندوستانی شہری گردیپ سنگھ کو موت کی سزا نہیں دی گئی ہے جسے گزشتہ رات موت کی سزا دی جانی تھی۔سشماسوراج نے ٹوئٹ کیاکہ انڈونیشیا میں ہندوستانی سفیر نے مجھے اطلاع دی ہے کہ گردیپ سنگھ کو موت کی سزا نہیں دی گئی ہے جس کی موت کی سزا گزشتہ رات کے لیے طے تھی۔حالانکہ یہ واضح نہیں ہو سکاہے کہ ہندوستانی شہری کو موت کی سزا کیوں نہیں دی گئی، جبکہ چار دیگر قصورواروں کو فائرنگ اسکواڈنے موت کی سزا دے دی۔48سالہ سنگھ کا نام ان10قصورواروں کی فہرست میں شامل تھاجنہیں موت کی سزادی جانی تھی لیکن اسے موت کی سزانہیں دی گئی۔انڈونیشیاکی ایک عدالت نے اسے300گرام ہیروئن کی اسمگلنگ کی کوشش کامجرم پایاتھااوراسے 2005میں موت کی سزا سنائی تھی۔وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ نے کل کہا تھا کہ جکارتہ میں ہندوستانی سفارت خانے کے اہلکاراس معاملے کو لے کر انڈونیشیا ئی محکمہ خارجہ اور ملک کے اعلیٰ رہنماؤں تک پہنچ رہے ہیں۔سشما نے کہا تھا کہ حکومت سنگھ کو بچانے کے لیے آخری لمحے تک کوشش کر رہی ہے۔سوروپ نے کہاکہ سنگھ کے قانونی نمائندے افضال محمدکاموقف تھاکہ وہ متعلقہ قانون کے تحت انڈونیشیاکے صدرکے سامنے معافی کی درخواست دائرکرسکتاہے۔سفارت خانے نے انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کو ایک ’نوٹ وربل ‘بھیج کر گزارش کی ہے کہ موت کی سزا سے پہلے تمام قانونی اقدامات اپنائے جانے چاہئیں ۔حکام کے ذریعہ موت کی سزا پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ لینے کے بعدپنجاب کے جالندھر کے رہائشی سنگھ سمیت 14لوگوں کو موت کی سزا سنائی گئی تھی۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی تنقیدکی۔انڈونیشیا،نائیجیریا،زمبابوے اور پاکستان کے شہری سمیت 14لوگوں کا نام موت کی سزا کی فہرست میں شامل تھا۔سنگھ کو29؍اگست 2004میں سکرنو ہتا ہوائی اڈے سے منشیات اسمگلنگ کے الزام میں گرفتارکیاگیاتھا۔فروری2005میں تانگے رانگ عدالت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، جبکہ استغاثہ نے اسے 20سال قیدکی سزا دینے کی درخواست کی تھی۔بانتین ہائی کورٹ نے مئی 2005میں موت کی سزا کے خلاف اس کی اپیل کو مسترد کر دی تھی ۔پھر اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی جس نے اس کی موت کی سزا برقرار رکھی ہے ۔وہ اس وقت نوساکابنگن پاسرپوتح،سلاکاپ میں حراست میں ہے۔