شملہ،15/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی)ہماچل پردیش میں بارش، بادل پھٹنے اور مٹی کے تودے گرنے کے بار بار ہونے والے واقعات کی وجہ سے گزشتہ 24 گھنٹوں میں ریاست میں50سے زیادہ لوگوں کی موت ہو گئی ہے ،نیز تقریباً 40 لوگوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا اندیشہ ہے۔
ذرائع کے مطابق گورنر شیو پرتاپ شکلا نے ریاست میں اورنج الرٹ کے اعلان اور بارش، بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کے حالیہ واقعات، جان و مال کے نقصانات کے پیش نظر 15 اگست کو راج بھون میں ہونے والی تقریبات ملتوی کر دی ہے، اب فقط پرچم کشائی ہوگی۔خیال رہے کہ گورنر خود لینڈ سلائیڈنگ کے مقام پر پہنچے ،جہاں 20 سے 25 افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ راج بھون میں صرف پرچم کشائی ہوگی،دیگر تقریبات ملتوی کر دی گئی ہے۔ریاست کے شملہ، سولن، منڈی، کانگڑا اور چمبا اضلاع میں شدید بارش، بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ نے تباہی مچا رکھی ہے۔ شملہ میں دو مٹی کے تودے گرنے اور سولن میں بادل پھٹنے کے تازہ واقعات میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہو ئے۔ شملہ کے سمر ہل علاقے میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث ایک شیو مندر ڈھہ گیا اور کئی لوگ ملبے تلے دب گئے۔ عموماً پیر کے دن مندروں میں عقید تمندوں کی بڑی بھیڑ ہوتی ہے۔ اسی دوران لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے وہاں پر کئی مکانات ملبے کی زد میں آ گئے اور کئی لوگوں کے اس کے نیچے دبنے کا خدشہ ہے۔
سمر ہل سے اب تک چھ لاشیں نکالی جا چکی ہیں جن میں تین بچے اور ایک عورت بھی شامل ہے۔ دونوں مقامات پر ضلع انتظامیہ کی ٹیموں، نیشنل ڈیزاسٹر ریلیف فورس، سماجی تنظیموں اور مقامی لوگوں کی مدد سے راحت اور بچاؤ کا کام جاری ہے۔وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ نے بھی سمر ہل پہنچ کر صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے سینئر افسران اور ضلعی ڈپٹی کمشنروں کے ساتھ ریاست میں تازہ قدرتی آفت سے پیدا ہونے والی صورتحال کا بھی جائزہ لیاہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی انتظامیہ ملبہ ہٹانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سی ایم کے میڈیا ایڈوائزر نریش چوہان نے کہا کہ 10 سے 15 لوگوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔وزیر اعلیٰ نے سولن ضلع کے مملیک گرام پنچایت کے لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ جدون گاؤں کا بھی دورہ کیا، یہاں بادل پھٹنے سے ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ اس سانحہ کو دیکھ کر جذباتی ہو گئے اور کہا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ہماچل پردیش کے محکمہ صنعت کے ماہر ارضیات اتل شرما نے بتایا کہ سڑکوں کے لیے پہاڑوں کی کٹائی کی جا رہی ہے۔ اس سے زیادہ تباہی ہو رہی ہے۔
اس کی وجہ سے چندی گڑھ-شملہ فور لین اور چندی گڑھ-منالی فور لین ہائی ویز پر زیادہ نقصان ہوا ہے۔اس بار شدید بارش کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔ خیال رہے کہ ہماچل میں اپریل سے مسلسل بارش ہو رہی ہے۔ اس سے زمین میں نمی بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں تازہ بارش ہوتے ہی نقصان ہو رہا ہے۔ ریاستی وزیراعلیٰ سکھویندر نے کہا کہ ریاست میں یوم آزادی کی تقریبات پر کوئی ثقافتی پروگرام نہیں ہوگا، اس دوران پرچم کشائی کرکے ہی شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔