ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہم اڈانی کے ہیں کون: پانچ روزہ وقفہ کے بعد کانگریس نے مودی حکومت کے سامنے رکھی سوالوں کی 17ویں قسط

ہم اڈانی کے ہیں کون: پانچ روزہ وقفہ کے بعد کانگریس نے مودی حکومت کے سامنے رکھی سوالوں کی 17ویں قسط

Mon, 27 Feb 2023 23:14:47    S.O. News Service

نئی دہلی، 27؍فروری (ایس او نیوز؍ایجنسی) کانگریس نے پانچ دنوں کے وقفہ کے بعد ایک بار پھر 'ہم اڈانی کے ہیں کون' سیریز کے تحت مودی حکومت کے سامنے تین سوالات کی نئی قسط پیش کی ہے۔ کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سوالوں کا نیا سیٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پلینری اجلاس کی وجہ سے 5 دنوں کا بریک ہو گیا اور اب اڈانی مہا میگا گھوٹالے پر براہ راست وزیر اعظم سے ہمارے سوال آج سے پھر شروع ہو گئے ہیں۔ تو جیسا کہ آپ سے وعدہ تھا، ہم اڈانی کے ہیں کون (ایچ اے ایچ کے) سیریز میں آپ کے لیے آج کا تین سوالوں کا سترہواں سیٹ پیش ہے۔

سوال نمبر 1: اڈانی گروپ کے شیئرس میں لگاتار بکوالی کے سبب 31 دسمبر 2022 سے گروپ میں ایل آئی سی کے شیئرس کی قیمت میں حیرت انگیز طور سے 52000 کروڑ روپے کی گراوٹ آئی ہے۔ ان کی قیمت اب محض 32000 کروڑ روپے رہ گئی ہے اور ایل آئی سی و اس کے کروڑوں پالیسی ہولڈرس کے ذریعہ کمایا گیا سارا منافع، جو اب ہم سبھی جانتے ہیں کہ اسٹاک مارکیٹ میں ہیر پھیر اور منی لانڈرنگ کے سبب ہوا تھا، اس سارے منافع کا صفایہ ہو گیا ہے اور ایل آئی سی کو ایک بہت بڑا نقصان ہوا ہے۔ کس نے ہندوستان کے مالیاتی نظام کے اس ستون کو آپ کے پسندیدہ کاروباری کے لیے اتنے جوکھم بھرے سودے میں شامل ہونے کے لیے مجبور کیا؟ ہندوستان کے شہریوں کی بچت کے ساتھ کھیلے گئے اس جوئے کے لیے آپ کو کب جوابدہ ٹھہرایا جائے گا؟

سوال نمبر 2: آج جبکہ ایم ایس سی آئی، ایس اینڈ پی ڈاؤ جونس اور ایف ٹی ایس ای رسیل جیسی اہم مارکیٹ انڈیکس فراہم کرنے والی کمپنیاں اڈانی گروپ کی فرموں کے ویٹیج کا تجزیہ کر رہی ہیں، نیشنل اسٹاک ایکسچینج (این ایس ای) سرمایہ کاروں کی سیکورٹی کے لیے کوئی سنگین کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اس کے برعکس این ایس ای نے 17 فروری 2023 کو اعلان کیا کہ حال میں شیئر بازاروں میں ڈوب رہی اڈانی گروپ کی کمپنیوں میں سے اضافی 5 کو 14 انڈیکسز میں شامل کیا جائے گا۔ اس سے کئی مالی مشیروں نے اپنے گاہکوں کو ان فنڈز میں سرمایہ کاری نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، جو ان انڈیکسز کا بنچ مارک کی شکل میں استعمال کرتے ہیں۔ لیکن لاکھوں بے بس سرمایہ کاروں پر اب بھی ان کی محنت کی کمائی سے ان ڈوب رہی اڈانی گروپ کی کمپنیوں کو اُبارنے کے لیے مجبور ہونے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ کیا آپ اپنے قریبی دوست کو اس بحران سے نکالنے کے لیے این ایس ای پر دباؤ بنا رہے ہیں؟ سیبی کو یہ یقینی کرنے کے لیے کارروائی کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی ہے کہ لاکھوں سرمایہ کاروں کا ایک ڈوبتے ہوئے کاروباری گروپ میں سرمایہ کاری کرا کے ان سے دھوکہ دہی نہ ہو؟

سوال نمبر 3: ممبئی میں دھاراوی ایریا کی تعمیر نو کے لیے نومبر 2018 میں جاری ٹنڈر میں دبئی واقع سکلنک ٹیکنالوجی کارپوریشن 7200 کروڑ روپے کی بولی کے ساتھ سرکردہ بولی لگانے والے کی شکل میں سامنے آیا تھا۔ نومبر 2020 میں ریلوے کی زمین کی منتقلی میں تاخیر کے سبب اس ٹنڈر کو رد کر دیا گیا تھا۔ اکتوبر 2022 میں نئی شرائط کے ساتھ ایک نیا ٹنڈر جاری کیا گیا، جسے اڈانی گروپ نے 5069 روپے کی بولی کے ساتھ جیتا، جو رقم اصل ٹنڈر فاتح کی بولی سے 2131 کروڑ روپے کم تھی۔ کیا آپ نے بی جے پی حمایت یافتہ مہاراشٹر حکومت کو ٹنڈر کی شرائط کو بدلنے کے لیے مجبور کیا تاکہ اصل ٹنڈر جیتنے والے کو باہر کر کے اڈانی گروپ کو فائدہ دیا جا سکے؟


Share: