ریلی سے واپسی پرمبینہ گؤرکشکوں نے کئی مقامات پرحملے کئے،دلتوں نے پولیس پرتماشائی بنے رہے کاالزام لگایا
انا،16اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)انا میں ریلی کا دن دلتوں کیلئے پرتشددرہا۔5اگست کو احمد آباد سے نکلی دلت یاترا کا اختتام انا میں ہوا، تقریباََ10000دلت پورے ملک سے گئے، لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ اس علاقے کے دلتوں میں دوبارہ ڈر پھیلانے والا تھا۔ریلی سے واپس جارہے دلتوں پر کئی جگہ حملے ہوئے۔دن بھر میں ہوئی پرتشدد جھڑپوں میں تقریباََ 25سے زیادہ دلتوں کوچوٹیں آئی ہیں۔ریلی میں حصہ لے کر واپس جا رہے تھے تو سامتیر گاؤں کے قریب مبینہ گؤرکشکو ں نے ان کی گاڑی دوپہر تقریباََ 12.30بجے روک لی۔ان پر ہاکی، لوہے کے سریے، پتھر وغیرہ سے حملہ کیا گیا۔تقریباََ 60لوگوں نے انہیں گھیر کر حملہ کیا۔ناتھابھائی کاالزام ہے کہ حملے سے 50فٹ فاصلے پر ہی پولیس ہتھیار لے کر بیٹھی تھی لیکن انہوں نے کچھ نہیں کیا۔ساتھ میں سفرکررہے11میں سے 9لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں۔بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگ پائے۔ 9میں سے تین لوگوں کوزیادہ چوٹیں لگی ہونے کی وجہ سے احمد آباد سول ہسپتال میں بھرتی کیا گیا ہے۔پوری ریلی کی قیادت کر رہے نوجوان لیڈرجگنیش میوای بھی زخمی لوگوں سے ملنے احمد آباد سول ہسپتال پہنچے۔میوای کا الزام ہے کہ دلتوں پر حملے تین دن سے ہو رہے ہیں۔جب ریلی انا کے قریب پہنچی تبھی سے ان پر حملے ہو رہے ہیں۔انہوں نے ریلی سے ایک رات پہلے بھی خود پولیس اسٹیشن جاکر اعلیٰ حکام سے دلتوں کو تحفظ فراہم کرنے کی گزارش کی تھی، لیکن کچھ ہوا نہیں۔کسی حملہ آور کو گرفتار تک نہیں کیاگیاجس کی وجہ سے دبنگوں کے حوصلے بڑھ گئے اور زیادہ حملے ہوئے۔زخمی احمد آباد کے سول ہسپتال، بھاونگر اور مہوا کے ہسپتال میں داخل ہیں۔دوسری طرف پولیس کہہ رہی ہے کہ انہوں نے ضروری کارروائی کی اور صورت حال کو کنٹرول میں لے لیا۔گیر سومناتھ ضلع کے ایس پی چودھری کا کہنا ہے کہ سامتیر میں شام تک مظاہرین لوگ راستہ جام کئے تھے اور سڑک خالی نہیں کر رہے تھے جس کی وجہ سے کارروائی کی گئی۔لیکن، دلتوں کا الزام ہے کہ اگر کارروائی دو دن پہلے کی ہوتی تو دلتوں پرحملے نہیں ہوتے اور وہ زخمی نہیں ہوتے۔ان واقعات کی وجہ گیر سومناتھ ضلع کے انا اور ارد گرد کے علاقوں میں دلتوں میں خوف کا ماحول بن گیاہے۔