ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / گائے کے تحفظ کے نام پرکمزورطبقات کااستحصال لمحہ فکریہ

گائے کے تحفظ کے نام پرکمزورطبقات کااستحصال لمحہ فکریہ

Fri, 29 Jul 2016 21:28:31    S.O. News Service

خواتین پرتشددسے حکومت کی کمزوری ظاہرہوتی ہے:مولانامحمودمدنی

نئی دہلی 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )جمعپۃعلماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے گائے اور اس کی نسل کے تحفظ کے نام پر کمزور طبقات خاص طور سے دلت اور مسلمانوں پر ہورہے مسلسل حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی وریاستی سرکاروں سے مطالبہ ہے کیا کہ وہ اس پر فوری قد غن لگانے کے لیے موثر اقدامات کریں ۔ انھوں نے اسے فاشزم اور آئین و قانون کو بے اثر کرنے والا عمل بتاتے ہوئے کہا کہ جمعپۃعلماء ہند ایسی صورت حال پر ہرگز خاموش نہیں رہے گی اور جمہوری نظام کے تحت ہر طرح کا احتجاج درج کرائے گی ۔ مولانا مدنی نے حال میں مدھیہ پردیش میں دو مسلم خاتون پر ہوئے حملے کے تناظر میں کہا کہ اس سے شد ت پسندطاقتوں کی منمانی او رحکومت کے نظام کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے ۔ مولانا مدنی نے کہا کہ بلاشبہ جانوروں کا تحفظ او ر کھیتی باڑی کو فروغ دینا بلا امتیاز مذہب وفرقہ تمام ملک کے باشندوں کا مسئلہ ہے ، دودھ ، دہی، مکھن اور دیشی کھاد وغیرہ کے لیے جانوروں کا ہو نا ضروری ہے ، لیکن گائے کے تحفظ کے نام پر بھیڑ کی شکل میں دوسروں پر حملہ کرنا ملک اور انسانی اقدار کے لیے ایک سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے ،اگر اسی طرح قانون کو ہاتھ میں لے کر کارروائی کرنے کی آزادی ہو گی تو حکومت وقانون کا کوئی معنی نہیں رہ جائے گا ۔مولانا مدنی نے گجرات میں دلتوں پر حملے سے متعلق کہا کہ دلت اور پسماندہ طبقات پر حملہ انتہائی دکھ کی بات ہے ، ہم ان کی بدترین معاشی حالات کو بہتر کرنے کے بجائے ان سے جینے کی آزادی چھین کر کیسے سکون پا سکتے ہیں،انھوں نے کہا کہ ہماری یہ مسلسل کوشش ہے کہ دلت اور مسلمان سمیت دیگر پسماندہ طبقوں کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ سماجی جدوجہد کی جائے تو یہ ملک کے حق میں بہتر ہوگا کیوں یہ میرا ماننا ہے کہ جب تک یہ طبقات ترقی نہیں کریں گے ، ملک کومہذب ،ترقی یافتہ اور طاقت ور نہیں بنایا جاسکتا ۔انھوں نے کہا کہ مرے ہوئے جانوروں کے کھا ل اور ہڈی وغیرہ کے استعمال پر اگر روک لگا تو اس سے ملک کے اقتصادیات پرمضر اثرات مرتب ہوں گے ، اس سے بہت سارے طبقات کا پیشہ وابستہ ہے ۔مولانا مدنی نے مرکزی و ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ امن وقانون کی بحالی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کوبرقراررکھنے کے لیے مو ثر کارروائی کریں اور قصورواروں کو قانون کے تحت سزا دہی کو یقینی بنائیں ۔


Share: