ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / کشمیرکے حالات سے نمٹنے کے سوال پرمحبوبہ مفتی چراغ پا؛ سخت ناگواری کے بعد پریس کانفرنس سے کیا واک اوٹ

کشمیرکے حالات سے نمٹنے کے سوال پرمحبوبہ مفتی چراغ پا؛ سخت ناگواری کے بعد پریس کانفرنس سے کیا واک اوٹ

Thu, 25 Aug 2016 19:37:32    S.O. News Service

 صورت حال کیلئے سنگ باری کررہے نوجوانوں کو ٹھہرایا ذمہ دار؛ سیکورٹی فورسز کی فائرنگ پرخاموشی

سرینگر ، 25؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے آج اپنا آپا کھو دیا اور اچانک ہی وہ پریس کانفرنس ختم کر دی۔اس پریس کانفرنس کو محبوبہ اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ خطاب کر رہے تھے۔دراصل محبوبہ اس وقت آپے سے باہر ہو گئی جب ریاست کے موجودہ بحران سے نمٹنے میں ان کے کردار سے منسلک سوالات پوچھے گئے۔ایک سوال کا جواب دینے کے بعد محبوبہ اچانک اٹھ کھڑی ہوئیں اور صحافیوں کوشکریہ کہا جبکہ راج ناتھ وہاں بیٹھے ہی رہے۔اس کے بعد راج ناتھ بھی ہچکچاتے ہوئے اٹھے اور محبوبہ کی رہائش گاہ پر منعقد یہ پریس کانفرنس ختم کردی گئی۔سوالات کے جواب دیتے ہوئے محبوبہ نے سنگ باری اور گزشتہ 47دنوں میں کشمیر میں ہوئے تشدد کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ جب تشدد پر آمادہ ہجوم سیکورٹی فورسز کے کیمپوں، پولیس کیمپ اور پولیس تھانوں پر حملے کرے گا تو کچھ نقصان تو ہوگا ہی۔محبوبہ نے اپنے پہلے کے ایک تبصرہ کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے محض پانچ فیصد لوگ پر تشدد احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ 95فیصد لوگ مسئلے کا پرامن حل چاہتے ہیں اور پانچ فیصد لوگوں نے تشدد میں شامل ہوکر پورے معاملے پر قبضہ کر لیاہے۔وزیر اعلی نے زور دے کر کہا کہ میں کشمیر مسئلے کے حل کے حق میں ہوں،مذاکرات ہونے چاہئے لیکن پتھر بازی کرکے اور کیمپوں پر حملہ کر کے کوئی مسئلہ نہیں سلجھنے والا،ہم مسئلے کو بائی پاس نہیں کر رہے،ہم حل چاہتے ہیں۔ 
وزیر اعلی نے گزشتہ چند دنوں میں ہوئے نقصان، خاص طور پر نوجوانوں کی موت اور ان کے زخمی ہونے کے طریقوں کو تفصیل سے سمجھانے کی کوشش کی۔ واضح رہے کہ کشمیر میں نوجوانوں کی موت اور ان کے زخمی ہونے پر حکومت کو کافی غصہ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔محبوبہ نے کہا کہ مارے گئے لوگوں میں سے 95فیصد، جس میں زیادہ تر نوجوان ہیں، جوابی کارروائی میں اس وقت مارے گئے جب وہ سیکورٹی فورس پر حملے کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ لوگ سڑکوں پر اتر آئے،ہم نے کرفیو لگایا،بچے فوج کے کیمپوں میں ٹوفیاں خریدنے گئے تھے؟ جنوبی کشمیر کے دمہال ہانجی پورا میں پولیس تھانے پر حملہ کرنے والا 15سال کا لڑکا وہاں دودھ لینے گیا تھا؟ ۔محبوبہ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے ایسے سکیورٹی کے خلاف کارروائی کی حمایت کی جو اس ماہ کے آغاز میں پلوامہ ضلع کے کھریو علاقے میں ایک لیکچرر کے مارے جانے کے معاملے میں شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ لیکچرر کا معاملہ ہے،اس میں جانچ ہونی چاہئے اور قصورواروں کو سزا دی جانی چاہئے،میں اس کی حمایت کرتی ہوں۔جب صحافی بحران کے حالات میں محبوبہ کے کردار کے بارے میں سوال پوچھتے رہے تو راج ناتھ نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا کہ محبوبہ جی آپ میں سے ہی ایک ہیں۔بہر حال محبوبہ مکمل طور بپھری ہوئی تھیں۔انہوں نے تپاک سے کہا کہ وہ مجھ سے کیا بولیں گے؟ میں نے جنوبی کشمیر کے نوجوانوں کو ٹاسک فورس(پولیس کی خصوصی مہم گروپ)سے بچایا ہے،میں نے ان لوگوں کو چاقوؤں سے بچایا ہے، جب انہیں بندھوا مزدوری کے لئے لے جایا جا رہا تھا۔


Share: