نئی دہلی 15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مکمل ریاست کے مطالبہ کی زور دار پیروی کرتے ہوئے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے آج الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ایک نظام کے ذریعے چنی گئی حکومت کی طاقتوں کو آہستہ آہستہ کمزور کر رہی ہے ۔یہاں چھترپتی شیواجی اسٹیڈیم میں یوم آزادی کے موقع پر اپنی تقریر میں کیجریوال نے سوال اٹھایا کہ کیا دہلی کے لوگ’’کم محب وطن‘‘اور’’نیم شہری‘‘ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ سمجھ نہیں پا رہے ہیں کہ ان کا جمہوری حق کیوں چھینا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے شہریوں کوایسامحسوس کرایا جا رہا ہے کہ ان دیگر ریاستوں کے مقابلے میں ان کے ووٹوں کا حق کم ہے جہاں پر ووٹروں کوطاقت کے ساتھ حکومتوں کا انتخاب کرنے کا حق ہے۔کیجریوال نے کہاکہ حکومت ہند قانون 1935کے تحت لوگوں کو اپنا نمائندہ منتخب کرنے کا حق تھا لیکن انگریز حکومت چلاتے تھے۔اس وقت مرکز نے دہلی میں انگریزوں کے زمانے کے قانون کونافذکررکھاہے۔انہوں نے کہاکہ دہلی میں لوگ وزیر اعلیٰ، ایم ایل اے اور حکومت کا انتخاب کر سکتے ہیں لیکن انہیں پورے حقوق کے ساتھ حکومت کرنے کا حق نہیں ہے۔کیا ہم نیم شہری ہیں؟۔مجھے سمجھ میں نہیں آتاہے کہ دہلی والے ٹیکس ادکرتے ہیں اس کے باوجود ان سے جمہوری حق چھینے جا رہے ہیں۔آپ کنوینر کیجریوال نے کہا کہ دہلی کے عوام اپنی حکومت چنتی آئی ہے جسے گزشتہ 24سالوں میں کچھ حقوق دیے گئے ہیں۔لیکن گزشتہ ڈیڑھ سالوں میں ایک کے بعد ایک حق واپس لئے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ’’بہت کم اختیارات‘‘ہونے کے باوجود ان کی حکومت نے کئی محاذپرکام کیاہے جس کی پوری دنیا میں بحث ہو رہی ہے۔آپ حکومت نے اس سال کی شروعات میں ریاست کا درجہ پر بل کا مسودہ پیش کیا تھا۔انہوں نے سوال کیاکہ لوگوں میں اس کو لے کر کافی غصہ ہے کہ چھتیس گڑھ، مہاراشٹر، مدھیہ پردیش، اڑیسہ جیسے دیگر ریاستوں کے مقابلے میں کیوں دہلی کے عوام کے ووٹوں کی قیمت کم ہے؟۔ دیگر ریاستوں میں ایک ووٹر کے ووٹوں کی قیمت 100ہے لیکن دہلی میں یہ 20ہے۔کیا دہلی کے لوگ کم محب وطن ہیں؟۔