نئی دہلی، 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )راجیہ سبھا میں آج کانگریس کے بارے میں پارلیمانی امورکے وزیرمملکت مختار عباس نقوی کے ایک تبصرہ پر مختلف اپوزیشن پارٹیوں کے ہنگامے کی وجہ سے ایوان کے اجلاس میں وقفہ صفر کے دوران رکاوٹ پیدا ہوئی ۔وقفہ صفر میں ہنگامہ اس وقت شروع ہوا جب جے ڈی یو کے رکن شرد یادو نے عوامی مفادسے جڑے موضوع کے تحت ملک میں بے روزگاری کا مسئلہ اٹھایا۔اس مسئلے سے خودکومنسلک کرتے ہوئے کانگریس کے آنند شرما نے بھی صورت حال کو کافی سنگین بتایا اور اس پر بحث کرانے کی بات کی۔اسی سلسلہ میں انہوں نے ملک اورنوجوانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان نسل مایوس ہو رہی ہے کیونکہ روزگار کے مواقع چھوٹ رہے ہیں۔نقوی نے آنندشرماکے بیان پر اعتراض کیا اورکانگریس کے بارے میں ایک تبصرہ کیا ۔ نقوی کے تبصرے پر کانگریس،سی پی ایم،جے ڈی یو،ایس پی وغیرہ جیسی اپوزیشن جماعتوں نے اعتراض کیا۔احتجاج کرتے ہوئے کانگریس، جنتا دل یو، ایس پی کے رکن اسپیکر کے سامنے آ گئے اور نعرے بازی کرنے لگے۔ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے ہنگامہ کر رہے اراکین کو یقین دلایا کہ وہ کارروائی کو دیکھیں گے اور اگر کوئی لفظ غیر پارلیمانی لگاتواس کو کارروائی سے ہٹا دیا جائے گا،لیکن اراکین کا ہنگامہ جاری رہنے پر انہوں نے کہا کہ یہ افراتفری ہے۔انہوں نے کہاکہ کوئی لفظ غیرپارلیمانی ہے یا نہیں، یہ طے کرنا اسپیکر کا کام ہے۔انہوں نے کہا کہ وقفہ صفر میں 10 لوگوں کو عوامی اہمیت کے مختلف مسائل اٹھانے ہیں، لیکن اس ہنگامے کی وجہ سے وہ اپنے مسئلے نہیں اٹھا پارہے ہیں۔ہنگامہ تھمتا نہیں دیکھ کر انہوں نے 11بج کر تقریبا 35منٹ پر اجلاس 12بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا ۔دوپہر 12بجے ایوان کی کاروائی کے دوبارہ شروع ہونے پر شرد یادو نے کہا کہ انہوں نے بے روزگاری کا مسئلہ اٹھایا تھا۔اس پر وزیر کی جو رائے آئی، وہ ٹھیک نہیں تھی۔اس پر نقوی نے کہا کہ شرد یادو ایوان کے سب سے سینئر اور تجربہ کار لیڈر ہیں۔ان کی بات پرمیں نے صرف یہی کہا تھا کہ ملک میں مایوسی کا ماحول نہیں ہے۔اس دوران میں نے ایک پارٹی کا نام لیا جسے کارروائی سے ہٹا دیا جائے۔اس کے بعد وقفہ سوال معمول کے مطابق چلنے لگا۔