ساکشی ملک نے جیت کے بعداپنے ملک کی عوام کا شکریہ اداکیا
ریو دی جنیریو،18اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)کانسے کے ساتھ ریو اولمپکس میں ہندوستان کے تمغے کی قحط ختم کرنے والی ہندوستانی خاتون پہلوان ساکشی ملک نے کہا کہ یہ ان کی12سالوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ساکشی نے اولمپک تمغہ جیتنے والی پہلی ہندوستانی خاتون پہلوان بننے کے ساتھ تاریخ رقم کی اور وہ اولمپک تمغہ جیتنے والی ملک کی چوتھی خاتون کھلاڑی ہیں۔اس سے پہلے ویٹ کرنم ملیشوری(سڈنی 2000:)، باکسر ایم سی میری کام(2012لندن)، بیڈمنٹن کھلاڑی سائنا نہوال (لندن 2012)ہندوستان کے لیے اولمپک میں تمغہ جیتنے والی خواتین کھلاڑی ہیں۔
جذباتی دکھائی دے رہیں ساکشی نے کہا کہ میری 12سال کی محنت لگ گئی،میری سینئر گیتا دیدی نے پہلی بار لندن اولمپکس کے لئے کوالیفائی کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ میں ہندوستان کے لئے پہلوانی میں تمغہ جیتنے والی پہلی خاتون پہلوان بنوں گی،مجھے امید ہے کہ باقی پہلوان بھی اچھا مظاہرہ کریں گے۔ہریانہ کی 23سال کی کھلاڑی نے 2014کے گلاسگو کامن ویلتھ گیمز میں چاندی کا تمغہ اور 2014کے انچون ایشیائی کھیلوں میں کانسے کا تمغہ جیتا تھا۔انہوں نے آج کانسے کے پلے آف میچ میں ڈرامائی واپسی کرتے ہوئے کرغستان کی یسلو تانیبیکووا یہاں 8-5سے شکست دی۔ہندوستانی کشتی فیڈریشن کے صدر برج بھوشن شرن سنگھ نے ساکشی کو گلے لگاتے ہوئے کہاکہ خواتین کے زمرے میں ہمیں ہندوستان کے لئے پہلا تمغہ ملا۔ساکشی نے کرو یا مرو کے باٹ کے پہلے پیریڈ کے بعد 0-5سے پچھڑنے کے بعد ڈرامائی کامیابی حاصل کی۔ہندوستانی کھلاڑی نے باٹ کے آخری لمحات میں کرغزستان کی کھلاڑی کو دھول چٹا دی۔ساکشی نے 0-5سے پچھڑنے پر اپنے دفاعی کھیل کو لے کر کہاکہ میں نے آخر آخر تک ہمت نہیں ہاری،مجھے پتہ تھا کہ میں اگر آخری چھ منٹوں تک ٹکی رہی تو جیت جاؤں گی،آخری راؤنڈ میں مجھے اپنا بہترین مظاہرہ دینا تھا، مجھے خود پر یقین تھا۔