ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کاروار : ٹھیکیدار کمپنی اور سیاست دانوں کے درمیان آنکھ مچولی - ہٹّی کیری گیٹ پر بحال ہوئی ٹول وصولی - آئی آر بی نے پیش کی سرنگ سیفٹی سرٹفکیٹ

کاروار : ٹھیکیدار کمپنی اور سیاست دانوں کے درمیان آنکھ مچولی - ہٹّی کیری گیٹ پر بحال ہوئی ٹول وصولی - آئی آر بی نے پیش کی سرنگ سیفٹی سرٹفکیٹ

Thu, 13 Jul 2023 12:38:02    S.O. News Service

کاروار، 13 / جولائی (ایس او نیوز) نیشنل ہائی وے 66 کا فور لین توسیعی منصوبہ مکمل ہونے تک ضلع شمالی کینرا میں ٹول وصولی بند کرنے کی ہدایت ضلع انچارج وزیر منکال وئیدیا نے دی تھی ۔ جس پر ڈپٹی کمشنر پربھو لنگا نے کہا تھا کہ یہ بات ان کے اختیار میں نہیں ہے ، البتہ تحفظ کے نقطہ نظر سے بینگا کی سرنگ کو آمد و رفت کے لئے بند کیے جانے کی ہدایت عمل کیا گیا تھا ۔ 
    
اس دوران کاروار - انکولہ ایم ایل اے ستیش سائل نے اپنے حامیوں کے ساتھ  منگل کے دن ہٹی کیری ٹول پلازہ پر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے آئی آر بی کی طرف سے بینگا سرنگ سیفٹی سرٹفکیٹ پیش کرنے تک ٹول وصولی بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا ۔ جس کے بعد دن بھر وہاں ٹول وصولی بند رہی ۔ 
    
مگر ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی نے منگل کے دن ہی رات کے وقت پھر سے ٹول وصولی شروع کی گئی ۔ اور بدھ  کے دن صبح میں پونے کی ایک کمپنی کی طرف سے کاروار شہر کو بینگا سے جوڑنے والی چاروں سرنگیں محفوظ ہونے اور قابل استعمال ہونے کی سرٹفکیٹ بھی حاضر کر دی ۔ معلوم ہوا ہے کہ آئی آر بی نے فٹنیس سرٹفکیٹ ضلع ڈپٹی کمشنر کو پیش کر دی ہے ۔ اب سرٹفکیٹ کی بنیاد پر ڈی سی کی طرف سے سرنگ کا راستہ کھولنے کی اجازت دینے کا مرحلہ باقی ہے ۔
    
آئی آر بی کی جانب سے ایک ہی دن کے اندر ہنگامی طور پر اس طرح کی سیفٹی سرٹفکیٹ حاضر کیے جانے پر عوام کی طرف سے ایک طرف شکوک و شبہات پر مبنی سوال اٹھائے جا رہے ہیں  تو دوسری طرف سیاست دانوں ، ٹھیکیدار کمپنی آئی آر بی اور نیشنل ہائی وے اتھاریٹی کے درمیان چل رہی آنکھ مچولی پر سوشیل میڈیا میں مختلف انداز سے مباحثے اور تبصرے چل پڑے ہیں ۔ بی جے پی کی لابی طنزیہ انداز میں موجودہ ضلع انچارج وزیر اور ایم ایل اے کو نشانہ بنا رہی ہے اور ٹول وصولی بند کروانے کی دھمکی کو اپنا حصہ وصول کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کمپنی کو مشورہ دے رہی ہے کہ ان سیاست دانوں کو "ری چارج" کر دیا گیا تو سب ٹھیک ہوجائے گا ۔


Share: