کاروار ، 13 / جولائی (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا کے اریبیل گھاٹ پر دو تین دن قبل پہاڑی چٹان کھسکنے کا ایک چھوٹا سا معاملہ پیش آیا جس سے ماضی قریب میں ہوئے چٹان کھسکنے کے ایسے بہت بڑے معاملہ کی یاد تازہ ہوگئی جب پورے ساحلی علاقہ کا رابطہ دوسرے تعلقہ جات سے مکمل طور پر کٹ گیا تھا ۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کے باوجود ضلع انتظامیہ نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے اوراس طرح کے معاملے دوبارہ پیش آنے کے امکانات اب بھی موجود ہیں ۔
سال 2021 میں انشی گھاٹ اور اریبیل گھاٹ پر بڑے پیمانے پر چٹانیں کھسکنے کے واقعات ہوئے تھے ۔ جس کی وجہ سے انشی گھاٹ سے گزرنے والی سڑک کو کئی مہینوں تک ٹریفک کے لئے بند رکھا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں کاروار، انکولہ، کمٹہ، ہوناور تعلقہ جات ضلع کے بقیہ تعلقہ جات سے پوری کٹ گئے تھے ۔ پھر جوئیڈا تعلقہ کے لوگوں نے زبردست احتجاج شروع کیا تو ضلع انتظامیہ نے ٹریفک کے لئے سڑک کھول دی تھی ۔
گزشتہ سال 2022 میں انشی گھاٹ پر چٹان کھسکنے کا معاملہ پیش آیا تھا جس کے بعد ضلع انتظامیہ نے اس راستے پر بھاری موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت بند کردی تھی ۔ اس کے علاوہ رات کے وقت ہر کسی قسم ٹریفک کو بند کر دیا گیا تھا ۔
ضلع انتظامیہ گھاٹ سے گزرتے ہوئے راستے پر چٹانیں کھسکنے کے معاملات روکنے کی تدابیر کا جائزہ لینے کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے پہاڑی کے پہلو میں رکاوٹی دیوار تعمیر کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ 100 کروڑ روپے لاگت والی یہ تجویز مرکزی وزارت برائے روڈ ٹرانسپورٹ اینڈ ہائی ویز کو بھیجی گئی تھی مگر دو سال گزرنے کے بعد بھی اس تجویز کو نہ منظوری ملی ہے اور نہ ہی فنڈ فراہم کیا گیا ہے ۔ نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے ایک افسر نے بتایا کہ امسال اس تجویز کو منظوری ملنے کی توقع ہے ۔