چنتامنی:29 /ستمبر(محمد اسلم/ایس او نیوز)بچوں پر ہونے والے مظالم کی روک تھام کے لئے طالب علموں میں قانونی جانکاری ومعلومات بہت ضروری ہیں اس کے زریعہ آج کل سماج میں بچوں پربڑھتے ہوئے جرائم اور جنسی ہراسانیوں کو بھی قابو میں کیاجاسکتا ہے ان خیالات کااظہار چنتامنی سیول کورٹ کے جج آر۔نٹیش نے کیا ۔انہوں نے آج شہر کے پریتی پبلک کالج میں وکلاء یونین و محکمہ تعلیمات عامہ کے زیر اہتمام منعقدہ ’’جرائم اور بچوں پر ہونے والے مظالم کی روک تھام ‘‘ اور طلباء میں قانونی بیداری پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان دنوں بچوں کی ہر اسانی کے معاملوں میں اضافہ ہورہا ہے اس کی روک تھام کے لئے ہائر پرائمری اور ہائی اسکول کے بچوں کو معلومات کرانے کی ضرورت ہے اپنی آنکھوں کے سامنے کہیں بھی پیش آنے والے ظلم یاجرم کو اندیکھا نہ کریں اگر نظر انداز کیا گیا تو وہی جرم بعد میں ایک برا جرم بن جائے گا اس لئے سمجھ دار بچے اس بات کو اپنے بڑوں تک یعنی اساتذہ اور والدین تک پہنچائیں بچے پولیس والوں سے نہ ڈریں ان سے کھل کر بات کریں اپنی اور اپنے دوستوں پر کہیں ظلم ہورہا ہے تو اس کی اطلاع پولیس کو دیں بغیر کسی ڈریا خوف کے اپنے مسائل کو بڑوں کے سامنے رکھیں ہر معاملے پر جانکاری اکٹھا کریں ہوسکے تو قانونی جانکاری حاصل کریں تاکہ آپ لوگوں کو اسانی ہوسکے اس کے زریعہ بہت کچھ حاصل کیاجاسکتا ہے۔
بعد ازاں سرکاری وکیل گور سوامی نے اپنے خطاب میں طلبا سے مخاطب ہوکر کہا کہ بچوں خصوصا نوجوان طبقہ آنے والے دنوں پر اس ملک کے مستقبل کو سنوانے کی ذمہ داری ہے اس لئے انہیں اخلاقی تعلیم و تربیت دینے کی ضرورت ہے آج کل ملک بھر جرائم میں اضافہ باعث تشویش ہے خصوصاََ بچوں لڑکیوں کے خلاف جرم میں اضافہ ہورہا ہے جس کو روکنے کے لئے بچوں سے لیکر نوجواں تک کو تعلیم و تربیت اپنے گھر ہی سے شروع کرنا چاہئے ماں اپنے بیٹوں اور عورتوں کی عزت کرنا سکھائیں خواتین اور لڑکیوں کے تعلق سے انکی سوچ میں تبدیلیاں لائیں آج کے نوجوان بہت ہی سمجھدار اور خود اعتماد ہیں مگر وہیں کچھ افراد جرائم میں ملوث ہیں خصوصاََ عورتوں کے خلاف جنسی ہراسانی معاملوں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اس لئے والدین اور اساتذہ کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اچھی تعلیم وتربیت سے آراستہ کرائیں اور جرائم کو برقرار دیتے ہوئے اس سے بچنے کی تلقین دیں نوجوان سنجیدگی سے اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے سنوارنے کاکام کریں تو اس ملک کا مستقبل بھی بہترین ثابت ہوسکتا ہے ۔اس کی ذمہ داری جتنی والدین پر ہے اتنی ہی اساتذہ پر بھی ہے اس موقع پرکالج کی پرنسپال نلنی راجیش ،ٹیچر ناگراج،وکلاء یونین کے سکریٹری شیونندا وکیل شری نات راجیش اشوتھ اپا ،شرنیواس پی ۔ایس۔آئی ۔سندر ،وکیل ایوب سمیت کئی وکلاء کالج کے لکچررس موجود رہے۔