ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پہلی تا اٹھویں جماعت کے بچوں کی اسکالرشپ ختم ، آرٹی ای کے تحت مفت تعلیم کے بہانے مودی حکومت کا درج فہرست،پسماندہ اوراقلیتی طبقات پر وار

پہلی تا اٹھویں جماعت کے بچوں کی اسکالرشپ ختم ، آرٹی ای کے تحت مفت تعلیم کے بہانے مودی حکومت کا درج فہرست،پسماندہ اوراقلیتی طبقات پر وار

Wed, 30 Nov 2022 11:35:29    S.O. News Service

نئی دہلی، 30؍ نومبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) مرکزی حکومت نے آرٹی ای قانون کے تحت پہلی تا 8 ویں جماعت کے تمام طبقات کو مفت تعلیم دینے کا دعویٰ کرتے ہوئے آج پسماندہ طبقات، درج فہرست طبقات اور اقلیتی طبقے سے وابستہ پہلی تا 8 ویں جماعت کے تمام طلبا کو دی جانے والی اسکالر شپ اسکیم ختم کرنے کا اعلان کردیا-

مرکزی حکومت کی وزارت برائے سماجی انصاف وتقویت کی طرف سے جاری ایک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں ایس سی ایس ٹی، اوبی سی اوراقلیتی طبقات کے طلبہ کو جو پرے میٹرک اسکالرشپ دی جارہی تھی وہ اب سے صرف 9ویں اور 10ویں جماعت کیلئے ہوگی- پہلی سے آٹھویں جماعت تک کے طلبا کو اس اسکیم سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا- اس فیصلے کی صراحت کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ آرٹی ای قانون 2009 کے تحت چونکہ پہلی سے آٹھویں جماعت کے تمام طلبا کو مفت تعلیم دینا لازمی ہے اسی لئے ان بچوں کو اسکالرشپ نہیں دی جاسکے گی- وزارت اقلیتی امور کے تحت بھی اب اسکالر شپ صرف نویں اور دسویں جماعت کے لئے دی جائے گی-

 مختلف سیاسی جماعتوں نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے پر شدید نکتہ چینی کی ہے اور اسے ملک کے کمزور طبقات پر ایک وار سے تعبیر کیا ہے- کانگریس کے جنرل سکریٹری رندیپ سرجے والا نے اس فیصلے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہائیوں سے ملک بھر میں درج فہرست طبقات پسماندہ طبقات اور اقلیتی طلبا کو پہلی سے آٹھویں جماعت تک کیلئے اسکالرشپ دی جارہی تھی لیکن تعلیمی سال 2022-23 سے مرکزی حکومت نے اس اسکالرشپ کو روک دیا ہے - سرجے والا نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو ملک کے غریب طبقات کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے - انہوں نے کہاکہ گذشتہ 8سال کے دوران مرکزی حکومت جہاں ایس سی ایس ٹی اوبی سی اور اقلیتوں کے بجٹ میں کٹوتی کی ہے وہیں حکمران پارٹی کی ایماء پر ان طبقات پر مظالم بھی جاری ہے -اب کمسن بچوں کی تعلیم کے لئے دی جانے والی مالی امداد کو ختم کرکے مرکزی حکومت نے وحشت کا مظاہرہ کیا ہے - سرجے والا نے کہاکہ کانگریس کو یہ فیصلہ ہرگز قبول نہیں - اسی لئے یہ فیصلہ واپس لیا جانا چاہئے - بی ایس پی کے رکن لوک سبھا کنوردانش علی نے مرکزی حکومت کے اس فیصلے کو اقلیتی طلبا کو تعلیم سے محروم کرنے کی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ملک کو آگے لے جانے کے لئے ملک کے تمام طبقات کو تعلیم سے آراستہ کرنے کی ضرورت ہے - اب ایس سی ایس اوبی سی اور اقلیتی طلبا کو تعلیم سے محروم کرکے مرکزی حکومت تعلیم کو صرف چند اعلیٰ ذاتوں تک محدود کردینا چاہتی ہے -


Share: