نئی دہلی، 7؍دسمبر (ایس او نیوز؍ایجنسی) پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس بدھ یعنی آج سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ مرکز کی نریندر مودی حکومت اس موقع پر کئی اہم بل پیش کرنے والی ہے۔ معلومات کے مطابق حکومت اس اجلاس میں 17 نئے بل پیش کرے گی۔ چین کے ساتھ سرحدی صورتحال، مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر کئی مسائل سرمائی اجلاس کی کارروائی پر حاوی رہیں گے۔
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران ممکنہ مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے مرکزی حکومت کی طرف سے منگل کو طلب گئی کل جماعتی میٹنگ میں 30 سے زیادہ جماعتوں کے قائدین نے حصہ لیا۔
سرمائی اجلاس میں حکومت کی جانب سے 17 نئے بلوں سمیت کل 22 بلوں کو منظور کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ ان میں ملٹی اسٹیٹ کوآپریٹو سوسائٹیز بل، فارسٹ کنزرویشن ترمیمی بلنیشنل ڈینٹل کمیشن بل 2022، کرناٹک سمیت تین دیگر ریاستوں میں درج فہرست ذاتوں اور قبائل کے نوٹیفکیشن میں ترمیم کرنے سمیت کئی بل شامل ہیں۔ پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس 29 دسمبر 2022 کو ختم ہوگا اور اس دوران 17 دن تک کام ہوگا۔ 29 دسمبر کو ختم ہونے سے قبل اس اجلاس کی 23 دنوں میں 17 نشستیں ہوں گی۔
اجلاس گجرات اور ہماچل اسمبلی انتخابات کے نتائج سے ایک دن قبل شروع ہو رہا ہے۔ اپوزیشن متعدد معاملات پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ سرحد پر چینی دراندازی اور ایجنسیوں کے غلط استعمال پر بحث کے مطالبے پر تصادم کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتیں خارجہ پالیسی، مہنگائی اور بے روزگاری کے معاملے پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کریں گی۔
مرکزی وزیر اور لوک سبھا میں بی جے پی کے ڈپٹی لیڈر راج ناتھ سنگھ کی صدارت میں ہوئی کل جماعتی میٹنگ میں سرمائی اجلاس کے ہموار انعقاد کے لیے تمام جماعتوں سے تعاون طلب کیا گیا۔ راجیہ سبھا میں قائد ایوان پیوش گوئل اور پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی بھی موجود تھے۔
کل جماعتی میٹنگ کے دوران کانگریس اور ٹی ایم سی نے تحقیقاتی ایجنسیوں کے مبینہ غلط استعمال کا مسئلہ اٹھایا۔ جس کی حمایت عام آدمی پارٹی، نیشنلسٹ کانگریس پارٹی اور دیگر کئی جماعتوں نے کی۔ لوک سبھا میں کانگریس لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے میٹنگ کے بعد میڈیا کو بتایا کہ ملک کے سامنے بے روزگاری اور مہنگائی جیسے کئی مسائل ہیں اور حکومت کو عوام کو جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین-ہندوستان سرحد پر تعطل کے بارے میں اپوزیشن کو صحیح طریقے سے آگاہ نہیں کیا۔