جگدل پور /12فروری (آئی این ایس ا نڈیا)چھتیس گڑھ میں نکسلیوں کی ٹی سی او سی مہم شروع ہو گئی ہے۔ پیر کو بیجاپور کے انڈرا پلی میں کوبرا اہلکاروں پر ہوئے حملے کو اس سال کے ٹی سی او سی کا پہلا حملہ مانا جا رہا ہے۔ یہی نہیں، اس بار نکسلیوں نے اپنی حکمت عملی میں بھی کافی بڑی تبدیلی کی ہے۔ پہلے مارچ اور پھر جنوری میں ٹی سی او سی کا آغاز کرنے کے بعد اب اس سال فروری کے وسط سے شروع کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب فورس اور مخبروں پر نکسلیوں کے حملے بڑھ جائیں گے۔اب نکسلیوں کے ٹی سی او سی کو لے کر جو انٹیلی جنس رپورٹ سامنے آئی ہے اس کے مطابق اس بار ٹی سی او سی میں نکسلیوں کے ٹارگیٹ میں طالب علم (بچے) رہیں گے۔ٹی سی او سی کے دوران نکسلی زیادہ سے زیادہ طالب علموں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ حکومت کے لئے کام کرنے والے مختلف انٹیلی جنس محکموں کی انٹیلی جنس رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا ہے کہ ٹی سی او سی میں نکسلی بڑی تعداد میں طالب علموں کو اپنے ساتھ جوڑیں گے، ان طالب علموں کو خود کار ہتھیار چلانے،سپلائی چین کے لئے کس طرح کام کرنا ہے جیسی ٹریننگ دیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ ٹی سی او سی کے دوران بڑے نکسلی حملے کے لئے بھی ا ن ہی طالب علموں کا استعمال کریں گے۔ ادھر نکسلیوں نے کچھ وقت پہلے مگنار اور پھر بودلی میں ایک کوٹوار کو مخبر ہونے کے نام پر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ ایک کے بعد ایک دو قتل کے وقت ہی ٹی سی او سی کا آغاز مانا جا رہا ہے۔ اس کے بعد بیجاپور کے ا ندرا پلی میں نکسلیوں نے جوانوں پر بڑا حملہ کیا لیکن وہ اس میں زیادہ کامیاب نہیں ہو پائے اور جوانوں کی جوابی کارروائی کے باعث نکسلیوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔انٹیلی جنس رپورٹ بتا رہی ہے کہ بستر کے چھ اضلاع میں تقریبا 15 سو بچے نکسلیوں کے لئے براہ راست یا بالواسطہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ نکسلی ان بچوں سے روزانہ ضرورت کے سامانوں کی سپلائی اور خریدی، کیمپوں اور جوانوں کی ریکی، اطلاعات کی فراہمی سمیت دیگر کام کروا رہے ہیں۔