تقریرپر تالیاں بجوانے سے فرقہ پرستی کاخاتمہ نہیں ہوگا،عملی قدم اٹھائیں مودی:مولانااعجازعرفی قاسمی
نئی دہلی10اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )گؤ رکشا کے نام پرجنونی عناصر کے ذریعے مختلف ریاستوں میں دلتوں اور مسلمانوں کے قتل اور ان کے زد و کوب کی منفی سیاست اور سنگھ پریوار کی دلت مسلم دشمنی پر کرب و بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدراورمشہوراسلامی اسکالر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے تنظیم کی طرف سے جاری پریس اعلامیہ میں کہا ہے کہ ہمارے موجودہ وزیر اعظم شری نریندر مودی گؤ رکشا کے نام پر ہونے والے بے جا مظالم اور گؤ رکشکوں کی مبینہ غنڈہ گردی کی زبانی مذمت توکر رہے ہیں ، مگر وہ بھی آر ایس ایس اور ہندو تو وادی طاقتوں کے شکنجے میں اتنے جکڑے ہوئے ہیں کہ گائے کے تحفظ کے نام پر ملک کے طول و عرض میں دلتوں اور مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کرنے والے اور انھیں زد وکوب کرنے والے سماج دشمن عناصرکے خلاف عملی قدم اٹھانے سے مجبورا گریز کر رہے ہیں۔ مولانا عرفی نے نام نہاد ہندوؤ رکشکوں کی گائے کی آڑمیں ملک میں نفرت اور تعصب کی فضا قائم کرنے کی مذموم حرکت پر وزیر اعظم نریندر مودی کے حالیہ حوصلہ مندانہ بیان کی ستائش تو کی، مگر ساتھ ہی یہ کہا کہ اسٹیج سے صرف بیان دے کرسامعین سے تالیاں بجوانے اور ملک کی فرقہ وارانہ فضا کومکدرکرنے والوں کے خلاف زبانی تقریر کرنے سے اس مسئلے کا حل نہیں نکلنے والا ہے، بلکہ اگر وزیر اعظم گؤ رکشا کے اس نام نہاد معاملے کو لے کر واقعی مخلص اور فکر مند ہیں تو ان عناصر کی شناخت کرکے ان کے خلاف قانون و عدالت کا سہارا لینے اورانھیں کیفر کردار تک پہنچانے میں کسی تذبذب کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ اس سے بڑا المیہ اورکیاہوسکتا ہے کہ ملک میں بے روزگاری، مہنگائی،غربت،بھکمری، بد عنوانی، جمع خوری، رشوت ستانی جیسے مسائل کا بول بالاہے اور ہمارے حکمراں ان مسائل کے خاتمے کے لیے سنجیدگی کے ساتھ بات چیت کرنے کے بجائے مذہب، اونچ نیچ،ذات پات، جذباتی ایشوز اور مندر مسجد کی سیاست کررہے ہیں۔ مولانا نے کہا کہ گؤ رکشا کے نام پر بے قصور مسلمانوں اور دلتوں کو ہراساں کرنا، انھیں جسمانی اذیت دینا اور انھیں درخت سے لٹکاکرربے رحمی سے قتل کردینا دستور و آئین کی صریح خلاف ورزی ہے۔
مولانا قاسمی نے ملک کے موجودہ حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے بر جستہ کہا کہ جنت نشاں کشمیر ایک ماہ سے سلگ رہا ہے، احتجاج اور مظاہروں کے دوران فورسز کی گولی سے پچاس سے زائد بے قصور شہری اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں، ہزاروں افراد، بچے اور جوان ہسپتالوں میں موت اور زندگی کی کش مکش میں مبتلا ہیں، مگر ہمارا حکمراں طبقہ کشمیر کی آگ کو سرد کرنے پرنہیں، بلکہ اپنے سستے مفادات کی تحصیل کے لیے گائے اور جانور کی سیاست پرہی اپنا سارار دھیان مرکوزکیے ہواہے۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ گائے کے تحفظ کی آڑ میں اس ملک کی پر امن فضا میں نفرت، تشدد اور تعصب کا زہر گھول رہے ہیں، انھیں اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے اور یہ سوال کرنا چاہیے کہ ان کا یہ سفاکانہ طرز عمل قانون و انصاف کی رو سے کتناجائزہے۔انھیں یہ بھی جائزہ لینا چاہیے کہ گؤ گوشت اور اس کے چمڑوں کی صنعت سے کون لوگ منسلک ہیں اور کون لوگ ہماری آنکھوں میں دھول جھونک کر گائے کی آڑ میں منفعت کما رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سماج دشمن عناصر گائے اورمندرمسجد کی گھٹیا سیاست ،اتر پردیش کے آئندہ اسمبلی انتخاب میں ہندو ووٹوں کے پولرائزیشن کے مقصد سے کر رہے ہیں۔مگرمیں یقین ہے کہ مذہب اور گائے کے نام پر دکھاوے کی یہ سیاست زیادہ دنوں تک باقی رہنے والی نہیں ہے۔ا نھوں نے کہاکہ اس ملک کی اکثریت بی جے پی اور آر ایس ایس کی منفی پالیسی سے آگاہ ہوچکی ہے۔ اس لیے ان کا کوئی حربہ کارگرنہیں ہوگا اور انھیں دہلی اور بہار کی طرح اتر پردیش اور پنجاب کے اسمبلی انتخابات میں بھی شکست کا پیالہ پینا پڑے گا۔