سری نگر ،8 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )جمعہ کو ہوئی جھڑپوں میں زخمی ہوئے ایک نوجوان کی آج یہاں کے ایک اسپتا ل میں موت ہو گئی۔اس کے ساتھ ہی کشمیر میں پرتشدد جھڑپوں کے دوران ہلاک ہونے والوں کی تعداد 55تک پہنچ گئی ہے ۔ایک مہینہ قبل برہان وانی کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں ہوئی موت کے بعد سے وادی میں پر تشدد مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور اس کے بعد سے کشمیر کے کئی حصوں میں کرفیو کاسلسلہ جاری ہے۔ایک پولیس افسر نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے شوپیاں ضلع کے رہنے والے امیر بشیر لون کی آج صبح ایس کے آئی ایم ایس اسپتا ل میں موت ہو گئی۔انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو مظاہرین کے خلاف سیکورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران وہ زخمی ہو گیا تھا۔لون کی موت کے ساتھ وادی میں سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 55تک پہنچ گئی ہے۔سری نگر سمیت کشمیر کے کئی حصوں میں آج 31ویں دن بھی کرفیو جاری ہے ۔افسر نے دعوی کیا کہ قانون وانتظام کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لیے احتیاطی طورپر سری نگر کے 6 تھانہ علاقوں-نوہٹا، کھانیار، ریناواڑی، صفا کدل، مہاراج گنج اور بٹمالو میں کرفیو جاری ہے ۔اننت ناگ، بڈگام ضلع کے دو شہروں چدورا اور خان صاحت میں بھی کرفیو جاری ہے ۔افسر نے بتایا کہ وادی کے باقی علاقوں میں حکم امتناعی نافذ ہے ۔انہوں نے بتایاکہ وادی کے باقی علاقے میں چار یا اس سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر اب بھی پابندی ہے۔ایسی خبریں بھی ہیں کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ ضلع کے سوپور میں قانون وانتظام کو قائم رکھنے کے لیے فوج کو طلب کرلیا گیاہے ، حالانکہ پولیس ترجمان نے ان خبروں کو مسترد کیا ہے۔ترجمان نے کہاکہ فوج کو نہیں طلب کیا گیا ہے تاہم وہ شہر کی سرحد پر گشت ضرور لگا رہے ہیں۔پوری وادی میں موبائل انٹرنیٹ خدمات ٹھپ ہیں جبکہ پری پیڈ کنکشن پر آؤٹ گوئنگ کال کی سہولیات بھی بند ہے۔