نئی دہلی 15/ نومبر (ایس او نیوز/ایجنسی) 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو بند کرنے کے خلاف مفاد عامہ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اس فیصلے پر روک لگانے سے انکار کر دیا. تاہم عدالت نے حکومت سے کہا کہ وہ اس بات کی طرف دھیان دیں کہ لوگوں کو پریشانی نہ ہونے پائے.
عدالت میں دائر کی گئی مفاد عامہ کے ساتھ ہی اب عام لوگوں کو ہورہی تکلیفات پرسپریم کورٹ کی بھی نظر رہے گی۔ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ عام لوگوں کو پریشانی نہ ہونےپائے اور حالات کو بہتر بنانے کی طرف ضروری اقدامات کئے جائیں۔
مرکز کیا قدم اٹھا رہا ہے حلف نامہ دیں
چیف جسٹس آف انڈیا ٹی ایس ٹھاکر نے مرکزی حکومت سے عدالت میں حلف نامہ داخل کرنے کا حکم دیا ہے کہ لوگوں کو ہونے والی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے مرکزی حکومت کس طرح کے اقدامات کررہی ہے۔ عدالت نے مرکز کو 25 نومبر تک جواب دینے کا حکم دیا ہے. کورٹ نے ساتھ ہی مرکز سے پوچھا ہے کہ آپ وڈرائول کی لمٹ کیوں نہیں بڑھارہے ہیں. عام رائے ہے کہ اس سے عام لوگوں کو دقت ہو رہی ہے.
پیسہ جمع کرانا ہوگا، ورنہ پیسہ گیا
عدالت نے کہا کہ جن لوگوں نے روپیہ جمع کر رکھا ہےانہیں بینک میں جمع کرانا ہوگا، ورنہ وہ پیسہ گیا. اسے آپ سرجیکل اسٹرائیک کہیں یا بمباری، لیکن یہ عوام کے لئےغیر شعوری طور پر بہت بڑا نقصان ہی ہے. عدالت نے یہ بھی کہا کہ ہم حکومت کی معاشی پالیسی میں دخل نہیں دیں گے.
حکومت کے اس فیصلے کو واپس لئے جانے کا مطالبہ والی پٹیشن دائر کرنے والے کی طرف سے عدالت میں کپل سبل پیش ہوئے. حکومت کی طرف سے پیش اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے اس مطالبہ کی پرزور مخالفت کی. کورٹ نے حکومت کے فیصلے میں دخل دینے سے تو انکار کر دیا، لیکن لوگوں کو پریشانی سے بچانے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں حکومت سے معلومات مانگی.
کالا دھن، دہشت گردی اور منشیات معاملات کے لئے نوٹبندي ضروری
مرکزی حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل نے کہا کہ کالا دھن، جعلی نوٹ، دہشت گردی اور منشیات امور پر روک لگانے کے لئے نوٹبندي ضروری ہے. 14 نومبر تک 3.25 لاکھ کروڑ روپے جمع ہو چکے ہیں. 30 دسمبر تک کا وقت دیا گیا ہے.
کالا دھن کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کیجئے، عام آدمی کے خلاف نہیں: کپل سبل
درخواست گزار کی جانب سے پیش کپل سبل نے کہا کہ کالا دھن کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کیجئے، لیکن عام آدمی کے خلاف نہیں. مرکزی حکومت نے یہ فیصلہ لاگو کرنے میں قوانین پر عمل نہیں کیا. RBI ایکٹ کے سیکشن 26 (2) کے تحت قانون پاس کرنا ہوتا ہے. ایسا 1956 اور 1978 میں قانون بنا کر کیا گیا. حکومت کے اس فیصلے سے عام لوگوں کی زندگی رک گئی ہے. اتراکھنڈ، شمال مشرقی ریاستوں اور بستر جیسے علاقوں میں لوگ بری طرح متاثر ہیں جہاں 30-30 کلومیٹر تک بینک یا اے ٹی ایم نہیں ہیں. یہ میرا پیسہ ہے، حکومت صرف ٹرسٹی ہے، وہ میرا پیسہ مجھے نکالنے سے کس طرح روک سکتی ہے.
مرکز نے اے ٹی ایم سے 2400 اور بینک سے ایک ہفتے میں 24 ہزار کی لمٹ طے کی ہے. کسی قانون میں یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو اپنا پیسہ لینے کے لئے ID دینے کی ضرورت پڑے. منڈیاں، مارکیٹ، دکانیں سب بند ہو گئی ہیں. ملک میں 30 کروڑ بینک کھاتے ہیں، جن میں سے 43 فیصد سرکاری ملازمین کے ہیں. بہت سے لوگوں کے پاس شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹ نہیں ہیں. کسی کو علاج کے لئے 20 ہزار روپے چاہئے تو وہ بھی نہیں مل پا رہا ہے۔
پی ایم مودی نے کیا تھا اعلان
واضح رہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے 8 نومبر کو ٹی وی پر نشر ملک کے نام پیغام میں پانچ سو اور ایک ہزار روپے کے نوٹوں کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا. جسکے بعد حکومت نے دو ہزار اور پانچ سو روپے کے نئے نوٹ جاری کئے ہیں.
لوگ پریشان؛ اسپتالوں میں مریضوں کی موت
اس اعلان کے ساتھ ہی ہفتہ بھر سے لوگوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے. پرانے نوٹوں کو بدلنے کے لئے اے ٹی ایم اور بینکوں کے باہرلوگ اپنا کاروبار اور کام کاج چھوڑ کرلمبی لمبی لائنوں میں لگ گئےہیں. لوگ بینکوں کے آگے رات رات بھر جاگ کر لائن لگا رہے ہیں، جس کے دوران افراتفری پھیل رہی ہے، کئی جگہوں پر بینکوں میں رقم ختم ہوجانے اور اے ٹی ایم اچانک خراب ہوجانے سے جھڑپوں کی بھی وارداتیں پیش آرہی ہیں۔ پرانے نوٹوں کو قبول نہ کرنے اور اسپتالوں میں علاج کے لئے نئے نوٹوں کا بندوبست نہ کرنے پر مریضوں کے انتقال کرنے کی بھی خبریں موصول ہورہی ہیں۔