نوح ، 10/اگست (ایس او نیوز/ایجنسی) ہریانہ کے نوح میں پیدا تشدد کے بعد اب حالات دھیرے دھیرے معمول پر ضرور آ رہے ہیں، لیکن مسلمانوں کیلئے مسائل کم ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔ تازہ ترین خبروں کے مطابق ہریانہ کی درجنوں پنچایتوں نے ایک ایسا فرمان جاری کیا ہے جو فکر انگیز ہی نہیں بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ دراصل تین ضلعوں ریواڑی، مہندر گڑھ اور جھجر کی 50 سے زائد پنچایتوں نے مسلم تاجروں کے داخلے پر روک لگانے سے متعلق خط جاری کیا ہے۔ سرپنچوں کے دستخط شدہ ان خطوط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گاؤں میں رہنے والے مسلمانوں کو پولیس کے پاس اپنی شناخت سے متعلق دستاویزات جمع کرنی ہوں گی۔
حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ بیشتر گاؤں میں اقلیتی طبقہ کا کوئی بھی باشندہ نہیں ہے۔ چند ایک کنبے ہیں جو تین سے چار نسلوں سے یہاں مقیم ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ہمارا ارادہ کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا نہیں ہے۔نارنول(مہندر گڑھ) کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ منوج کمار نے 'ٹائمز آف انڈیا' کو بتایا کہ انھیں خطوط کی کاپی ہاتھ نہیں لگی، لیکن سوشیل میڈیا پر خط ضرور دیکھا ہے اور بلاک دفتر سے سبھی پنچایتوں کو وجہ بتا نوٹس بھیجنے کو کہا گیا ہے۔
منوج کمار کا کہنا ہے کہ ایسے خط جاری کرنا قانون کے خلاف ہے۔ حالانکہ ہمیں پنچایتوں کی طرف سے ایسا کوئی خط نہیں ملا ہے۔ مجھے ان کے بارے میں میڈیا اور سوشیل میڈیا کے ذریعہ پتہ چلا۔ ان گاؤں میں اقلیتی طبقہ کی آبادی 2 فیصد بھی نہیں ہے۔ ہر کوئی خیر سگالی کے ساتھ رہتا ہے اور اس طرح کا نوٹس صرف اس خیر سگالی میں رخنہ ڈالے گا۔
خط کیوں جاری کیا گیا، یہ پوچھنے پر مہندر گڑھ کے سیدپور کے سرپنچ وکاس نے کہا کہ نوح تشدد تازہ ٹریگر تھا، لیکن گاؤں میں گزشتہ مہینے جولائی میں چوری کے کئی معاملے درج کیے گئے تھے۔ وکاس کا کہنا ہے کہ سبھی افسوسناک واقعات تبھی پیش آنے شروع ہوئے جب باہری لوگ ہمارے گاؤں میں داخل ہونے لگے۔ نوح تشدد کے ٹھیک بعد ہم نے یکم اگست کو پنچایت کی اور امن بنائے رکھنے کیلئے انھیں اپنے گاؤں کے اندر نہیں آنے دینے کا فیصلہ کیا۔انھوں نے مزید کہا کہ جب ان کے قانونی مشیر نے انھیں بتایا کہ مذہب کی بنیاد پر کسی طبقہ کو الگ کرنا قانون کے خلاف ہے، تو انھوں نے خط واپس لے لیا۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں پتہ کہ یہ خط سوشیل میڈیا پر کیسے پھیلنے لگا۔ ہم نے اسے واپس لے لیا ہے۔
وِکاس کے مطابق سیدپور خط جاری کرنے والا پہلا گاؤں تھا اور دیگر لوگوں نے اس کی پیروی کی۔ انھوں نے کہا کہ مہندر گڑھ کے اٹالی بلاک سے تقریباً 35 خط جاری کیے گئے تھے۔ باقی جھجر اور ریواڑی سے جاری کیے گئے تھے۔پڑوسی گاؤں تاج پور کے ایک باشندہ نے خط جاری کرنے کیلئے نوح تشدد کی خبر اور بڑے لوگوں (مضبوط لوگوں)کے اکساوے کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں یہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لیکن بڑے لوگوں سے فون آئے اور ملاقاتیں ہوئیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ سامنے آ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر تقریباً 750 گھروں والے اس گاؤں میں اقلیتی طبقہ کا کوئی بھی کنبہ نہیں ہے۔ مقامی لوگوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں ایسی کوئی فکر نہیں ہے۔ روہتاس سنگھ نے گاؤں کے مندر کے سامنے ایک پیپل کے درخت کے نیچے تاش کے پتوں کو پھینٹتے ہوئے کہاکہ ہمیں ان معاملوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے جو ہم سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ہو۔ ہم ایک آسان اور پرامن زندگی جیتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ نوح میں کیا ہو رہا ہے، لیکن ہمیں یہاں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی یا سکیورٹی سے متعلق فکر نہیں ہے۔
یہی سوال پوچھے جانے پر گاؤں کے سرپنچ راج کمار (جنھیں مقامی طور پر ٹائیگر کے نام سے جانا جاتا ہے)نے کہا کہ انھیں وِکاس کا فون آیا جنھوں نے کہا کہ سبھی نے خط جاری کر دیے ہیں اور مجھے بھی ایسا کرنا چاہیے۔ راج کمار کا کہنا ہے کہ یہ ایک احتیاطی تدبیر تھی اور مجھے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ انھوں نے جو خط جاری کیا تھا اس کا خاکہ ہمارے پاس تھا۔ ہم نے بس اسے کاپی کیا ہے۔ایک دیگر پڑوسی گاؤں کنج پورہ میں اقلیتی طبقہ کے تقریباً 100 لوگ رہتے ہیں۔ یہاں باشندوں کو شہر کے 'اڈے' میں تاش کھیلتے دیکھا گیا۔ ایک تاجر ماجد نے کہا کہ ہم ایک ساتھ رہتے ہیں۔ ہم نے نوح کے بارے میں سنا ہے، لیکن ہم اس سے اچھوتے ہیں۔ میرا کنبہ چار نسلوں سے یہاں مقیم ہے۔ یہ میرا گھر ہے۔محکمہ صحت کے ایک ملازم شاہ زیب نے جانکاری دی کہ گاؤں میں ان کے طبقہ سے تقریباً 80 ووٹرس ہیں۔ روایتی ہریانوی پوشاک یعنی شرٹ، لمبی اسکرٹ اور سر پر گھونگھٹ لیے اپنی بیوی کے ساتھ بائک پر نکلتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمارے درمیان کبھی کوئی نااتفاقی نہیں رہی۔ مذہب ہماری دوستی کو متاثر نہیں کرتا ہے۔ ہم ایک ساتھ بڑے ہوئے ہیں۔