منگلورو 25/ اگست (ایس او نیوز) ریاست کرناٹکا میں نوجوان لڑکوں کے اندر اغلام بازی یا ہم جنس پرستی کی وجہ سے ایچ آئی وی / ایڈس کا مرض آج کل بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے ۔ سرکاری اسپتالوں سے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق امسال جنوری سے اگست 2023 تک 500 نوجوان اس مرض میں مبتلا پائے گئے ہیں۔
ایک زمانے میں ایڈس کا مرض 25 سال سے زائد عمر کے ٹرک ڈرائیوروں، جسم فروشوں اور مہاجر مزدوروں میں بہت زیادہ عام ہوا کرتا تھا۔ اب 18 سے 25 سال عمر کے زمرے میں آنے والے ایم ایس ایم یعنی "مین ہو میو سیکس ودھ مین" گروپ کے نوجوان لڑکے زیادہ تر اس مرض کا شکار ہو رہے ہیں۔ ایک نفسیاتی ماہر کاونسلرکا کہنا ہے کہ نوجوان لڑکے ڈیٹنگ ایپس پر دیگر نوجوان لڑکوں سے رابطہ میں آنے کے بعد ہم جنس پرستی (ہوموسیکس) کا شکار ہو رہے ہیں اور یہ رجحان مخالف جنس پرستی (ہیٹیرو سیکس) سے زیادہ خطرناک ہے۔
جہاں تک جنوبی کینرا کی بات ہے سرکاری اسپتالوں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ یہاں پر جنوری سے 17/اگست 2023 تک ایچ آئی وی / ایڈس کے 130 نئے کیس سامنے آئے ہیں اور ان میں سے 17 ایم ایس ایم یعنی مردوں کی مردوں کے ساتھ ہم جنس پرستی کے معاملے ہیں۔ صرف اگست کے مہینے میں ہی اب تک نوجوان لڑکوں میں ایچ آئی / ایڈس کے 17 معاملے دیکھنے کو ملے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں کے ان اعداد وشمار کے علاوہ پرائیویٹ اسپتالوں میں جو معاملے زیر تشخیص یا زیر علاج ہیں ان کے بارے میں ابھی تفصیل دستیاب نہیں ہے ۔ اگر انہیں بھی شمار کیا جائے گا تو یقیناً یہ تعداد بہت بڑی نکلے گی۔
معلوم ہوا ہے کہ دکشن کنڑا میں ایم ایس ایم کی وجہ سے مرض لاحق ہونے کے جو 17 معاملے ہیں ان میں سے ایک کا تعلق تملناڈو سے ہے اور بقیہ 16 افراد دکشن کنڑا ضلع کے ہی رہنے والے ہیں۔ ان میں سے ایک شخص ہوسٹل میں رہتا ہے۔ ان میں ایم بی بی ایس، فارما اور انجینئرنگ کے شعبہ جات میں زیر تعلیم طلبہ بھی شامل ہیں۔ ایک ماہر معالج کا کہنا ہے کہ زیادہ تر تعلیم یافتہ نوجوان اغلام بازی یا مردوں کے ساتھ مردوں کی ہم جنس پرستی کی لت میں مبتلا ہوتے جا رہے ہیں ۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ نوجوان چمڑی اور جنسی عمل سے پھیلنے والی (وینرل) بیماری کے علاج کے لئے اسپتال آتے ہیں اور انٹیگریٹیڈ کاونسیلنگ اینڈ ٹیسٹنگ سینڑ (آئی سی ٹی سی) میں ان کا مزید معائنہ کرنے پر ایڈس کی تشخیص ہوجاتی ہے۔ اس طرح کے نوجوان زیادہ تر منشیات یا شراب نوشی کے عادی نہیں ہوتے۔ یہ لوگ اپنے مردوں کے ساتھ ہم جنس ہونے کی علامت کے طور پر اپنے صرف سیدھے کان کی لو میں اسٹڈ (پھول نما زیور) پہنتے ہیں اور اپنے ہاتھ کے ایک ہی ناخن پر پالش لگاتے ہیں۔