نئی دہلی،15/فروری(آئی این ایس انڈیا)مہاراشٹرا حکومت یکم مئی سے قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) نافذکرنے جا رہی ہے۔یکم مئی سے مہاراشٹر میں مردم شماری کا کام شروع ہوگا اور 15 جون تک چلے گا۔حکام کو معلومات جمع کرنے کے لئے ہدایات دی گئی ہیں۔ سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے درمیان، مہاراشٹر حکومت نے ریاست میں این پی آر اور مردم شماری کی تیاری شروع کر دی ہے۔مہاراشٹر حکومت کا یہ قدم اس لحاظ سے بھی کافی اہم ہے کیونکہ این سی پی اور کانگریس نے گزشتہ دنوں کہا تھا کہ وہ مہاراشٹر میں این آرسی کی اجازت نہیں دیں گے۔
این سی پی اور کانگریس نے مسلسل این آرسی، سی اے اے اور این پی آر کی مخالفت کی ہے۔معلوم ہو کہ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی مہاراشٹر حکومت میں این سی پی اور کانگریس حلیف پارٹی ہے۔کانگریس کے ترجمان چرن سنگھ ساپرا نے کہا ہے کہ مہاراشٹر میں این پی آر نافذ نہیں ہوگا۔ادھو حکومت، این سی پی اور کانگریس کی حمایت سے اقتدار میں ہے جو این پی آر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ایسے میں اب بڑا سوال یہ ہے کہ ادھو ٹھاکرے حکومت کس طرح چلے گی۔
مہاراشٹرا اسمبلی میں 288 سیٹیں ہیں اور اکثریت کے لئے 145 ممبر اسمبلی چاہئے۔شیوسینا کے اب 56 ایم ایل اے ہیں اور این سی پی کے 54 اور کانگریس کے 44 ممبران اسمبلی کے ساتھ ادھو حکومت کو کل 169 ممبران اسمبلی کی حمایت حاصل ہے۔ایسے میں ادھو حکومت کا این پی آر نافذکرنے کا فیصلہ مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر سیاسی ہلچل تیز کر سکتا ہے۔
قومی آبادی رجسٹر (این پی آر) ملک کے عام باشندوں کی ایک وسیع ڈیٹا بیس ہے۔اسے شہریت ایکٹ 1955 کی دفعات کے تحت اور شہریت (شہریوں کی رجسٹریشن اور قومی شناختی کارڈ جاری کرنا) دستور العمل، 2003 میں موجود طریقہ کار کے ذریعہ تیار کیا جا رہا ہے۔این پی آر کے تحت کوئی شناختی کارڈ جاری نہیں کئے جائیں گے۔کسی پتے پر 6 ماہ سے رہنے والے یا مزید 6 ماہ رہنے والوں کے نام اس رجسٹر میں شامل کئے جائیں گے۔ ویسے تو 2010 میں پہلی بار این پی آر بنانے کی شروعات ہوئی تھی لیکن این آرسی اور شہریت کے قانون پر جاری تنازعہ کے درمیان این پی آر کو اپ ڈیٹ کرنے کے فیصلے نے نئی بحث کو چھیڑ دیا۔نئے شہریت قانون کے بعد اب این پی آر پر بھی تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔