ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مودی حکومت میں جرائم میں ہوا اضافہ،گؤرکشاجیسی تنظیموں پرلگائی جائے پابندی 

مودی حکومت میں جرائم میں ہوا اضافہ،گؤرکشاجیسی تنظیموں پرلگائی جائے پابندی 

Fri, 29 Jul 2016 18:24:44    S.O. News Service

بی جے پی قیادت کی حوصلہ افزائی کے بغیرغنڈہ گردی کیسے ممکن ؟،ملکاارجن کھڑگے کاسوال
کانگریس سمیت اپوزیشن ارکان نے دلتوں،خواتین اورمسلمانوں پر حملوں میں اضافہ پر حکومت کو گھیرا
راج ناتھ سنگھ کاجواب،قانون ،انتظام ریاست کاموضوع،کارروائی کردی گئی

نئی دہلی، 29؍جولائی(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )مدھیہ پردیش میں گائے کے گوشت کے مسئلے پردومسلم خواتین کی مبینہ پٹائی کے معاملے پرکانگریس سمیت حزب اختلاف کے اراکین نے حکومت پرنشانہ سادھااورالزام لگایاکہ دلتوں اورمسلمانوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ اس پروزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا اور انصاف ہوگا۔وقفہ صفرمیں اس مسئلے کواٹھاتے ہوئے کانگریسی لیڈر ملکاارجن کھڑ گے نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دلتوں پر حملوں کے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔انہوں نے اس کے ساتھ ہی مدھیہ پردیش کے مندسور ، گجرات اور اتر پردیش میں دو دلتوں کی موت کے واقعات کا بھی ذکر کیا۔گؤ رکشا کمیٹی جیسی تنظیموں پر پابندی لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قانون کواپنے ہاتھوں میں لے رہے ہیں اور بی جے پی کی قیادت والی حکومت کی حمایت کے بغیر ان کے لیے ایسا کرنا کیسے ممکن ہوسکتا ہے؟۔ کھڑ گے نے سنگھ پریوار پر نشانہ لگاتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے رکن اور بی جے پی کے لوگ اس طرح کے واقعات میں ملوث ہیں۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ قانون وانتظام ریاست کا موضوع ہے۔مذکورہ واقعہ کے سلسلے میں مدھیہ پردیش حکومت نے فوری کارروائی کی ہے۔معاملے میں انصاف ہو گااور قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔وزیرداخلہ کے جواب سے غیر مطمئن کانگریس، ترنمول کانگریس، لیفٹ اور راشٹریہ جنتا دل کے ممبران ایوان سے واک آؤٹ کرگئے ۔کانگریس لیڈر ملکاارجن کھڑگے نے الزام لگایاکہ ایسے واقعات تبھی ہو سکتے ہیں جب حکومت کی حمایت حاصل ہو۔انہوں نے اتر پردیش میں ایک دلت جوڑے کو گلا گھونٹ کر مارنے کے واقعہ سے متعلق خبر کا بھی حوالہ دیا ۔مدھیہ پردیش کے واقعہ کاذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گائے کے گوشت کے شک میں دو مسلم خواتین کو گؤ رکشا کمیٹی کے لوگوں نے ماراپیٹاجبکہ وہ بھینس کا گوشت لئے جارہی تھی اور اس کے بارے میں رسید دکھا رہی تھی۔کانگریسی لیڈرنے کہاکہ ان کیرسیدکوپھاڑدیاگیااور پولیس کے سامنے ان کی پٹائی کی گئی۔ان سے کہا گیا کہ اگر وہ مرد ہوتیں تو ان کو قتل کردیاجاتا۔فارنسک رپورٹ میں بھی بھینس کا گوشت ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔کھڑ گے نے نیشنل کرائم بیوروکے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ ہرگھنٹے دلتوں کے خلاف جرائم کی مختلف وارداتیں ہو رہی ہیں ، عصمت دری کے واقعات ہو رہے ہیں اور ان کا قتل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ آپ کہیں گے کہ یہ پہلے بھی ہوتا تھا، لیکن جب سے آپ آئے ہیں،تب سے ایسے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
 


Share: