ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / منی پور: تشدد کی تازہ لہر میں مزید کئی گھر نذرِآتش،فائرنگ،متعدد زخمی،1 ہلاک

منی پور: تشدد کی تازہ لہر میں مزید کئی گھر نذرِآتش،فائرنگ،متعدد زخمی،1 ہلاک

Mon, 07 Aug 2023 12:31:25    S.O. News Service

امپھال، 7/اگست (ایس او نیوز؍ایجنسی)  منی پور میں تشدد کی تازہ لہر  میں سنیچراور اتوار کےدرمیان آتشزنی اور گولی باری کی مزید وارداتوں میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم  15مکانات نذر آتش ہوگئے۔اس بیچ  حالات سے  نمٹنے کیلئے  سینٹرل آرمڈ پولیس فورس (سی اے پی ایف) کی مزید 10کمپنیاں منی پور پہنچ گئی ہیں۔    اس کی تصدیق کرتے ہوئے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ 900 جوانوں اور افسران پر مشتمل مرکزی دستے سنیچر کی رات منی پور پہنچے ہیں جنہیں  متاثرہ علاقوں میں تعینات کردیاگیاہے۔ 

3 مئی کو منی پور میں شروع ہونےو الے تشدد کے بعد سے مرکزی حکومت یہاں فوج، آسام رائفلز اور دیگر مرکزی  سیکوریٹی ایجنسیوں کے 40 ہزار جوانوں کو تعینات کرچکی ہے مگر حالات پر قابو پانے میں3 ماہ گزر جانے کے بعد بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔مقامی پولیس فورس پر ابتدا سے ہی جانبدارانہ کارروائی کا الزام عائد کیا جارہاہے۔ اس بیچ پولیس لوٹے گئے ہتھیاروں کی تلاش میں سرگرم ہوگئی ہے اور اس کیلئے جگہ جگہ چھاپے مارے جارہے ہیں۔   اس دوران   11سو سے زائد ہتھیار ضبط کرلئے  گئے ہیں۔  

یاد رہے کہ اسلحہ کی تازہ ترین لوٹ کی واردات 3 اگست کو ہوئی جس میں   اے کے رائفلس کے علاوہ ’گھاتک ‘ سیریز کی اسالٹ رائفل، متعدد سیلف لوڈنگ  رائفل اور19ہزار سے زائد کارتوس لوٹی گئیں۔  ہینگانگ پولیس اسٹیشن اور سنگ جامئی پولیس اسٹیشن سے بھی خواتین اور مردوں کی بھیڑ نے ہتھیار لوٹنے کی کوشش کی مگر پولیس کی مستعدی کی بناد پر کامیاب نہیں  ہوسکی۔

منی پور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل راجیو سنگھ کے مطابق انسپکٹر جنرل آف پولیس  کے عہدہ کے افسر کی نگرانی میں لوٹے گئے اسلحہ کے تعلق سے اعلیٰ سطحی جانچ جاری ہے۔  سنیچر کو دن بھر گولیوں اور مورٹار کی فائرنگ میں کم از کم 6 افراد کی ہلاکت اور 16  کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ اسے منی پور کے اب تک کے سب سے تباہ کن حملوں میں سے ایک تصور کیا جارہاہے جو میتئی سماج کے3 افراد کے قتل کے بعد شروع ہوا ہے۔  ان حملوں میں  لوٹے گئے ہتھیارکا استعمال کیا جارہاہے۔

اس بیچ میتئی سماج نے تسلی تشدد کے سلسلہ پر قابو پانے کیلئے منی پور اسمبلی  کا  اجلاس فوراً طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سنیچر کو 24 گھنٹوں  کے بند کا اعلان کیا۔اس کے نتیجے میں امپھال کے کئی اضلاع میں عام زندگی بری طرح متاثر رہی۔ امپھال ایسٹ،ا مپھال ویسٹ، تھوبال،بشنوپور اور کاکچنگ میں دکانیں، تجارتی ادارے، درسگاہیں، سرکاری و غیر سرکاری مراکز اور بینک بند رہے۔سڑکوں پر بھی فوج اور پولیس کی گاڑیوں  کے علاوہ گاڑیوں کی آمدورفت بھی نہ کے برابررہی۔  دوسری طرف پہاڑی علاقوں میں جہاں کوکی برادری آباد ہے، بند کا کوئی اثر نہیں رہا۔

تازہ تشدد کے تعلق سے خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے جو خبر دی ہے اس کے مطابق سنیچر کی شام لنگول گیمس گاؤں میں سنیچر کی رات بڑے پیمانے پر تشدد برپا ہوا اور بھیڑ نے جم کر ہنگامہ آرائی کی۔ اس دوران  کم ازکم 15 گھروں کو نذر آتش کیاگیا۔ اتوار کی صبح تک حالات میں بہترین کا دعویٰ کیا گیاہے مگر پابندیاں برقرار ہیں۔ 


Share: