نئی دہلی، 23/جولائی(ایس او نیوز/ایجنسی)منی پور میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے تشدد جاری ہے، بے گناہوں کے قتل، گھر جلانے، دکانوں کی لوٹ مار کے درمیان 19 جولائی کو ایک ویڈیو سامنے آیا، جس نے پورے ملک کو شرمندہ کر دیا۔ یہی نہیں، اجلاس کے پہلے دودن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں کافی ہنگامہ ہوا۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں کام نہیں ہو سکا۔جہاں پارلیمانی امور کے وزیر ارجن رام میگھوال نے کہا کہ اپوزیشن جان بوجھ کر منی پور پر بحث نہیں کرنا چاہتی۔ وہ بار بار اپنا موقف بدل رہی ہے اور قواعد کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز منی پور پر بات چیت کیلئے تیار ہے، جس پر وزیر داخلہ جواب دیں گے۔
دوسری طرف اپوزیشن وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں تفصیلی بیان دیں اور شمال مشرقی ریاستوں کی صورتحال پر طویل بحث کریں۔ ایسے میں سوال اٹھنے لگا ہے کہ جب حکومت اور اپوزیشن بات چیت کرنا چاہتے ہیں تو مسئلہ کہاں پھنس رہا ہے۔اپوزیشن جماعتوں نے منی پور کے معاملے پر بحث کیلئے لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں کو نوٹس دیا ہے۔ حالانکہ لوک سبھا میں کوئی جھگڑا نہیں ہے، کیونکہ اپوزیشن پارٹیوں نے قاعدہ 193 کے تحت نوٹس دیا ہے جس پر حکومت نے بحث کیلئے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔یہ لڑائی راجیہ سبھا میں ہے، جہاں قواعد 176 / اور 267 کے تحت منی پور کی حیثیت پر بحث کیلئے نوٹس دیے گئے تھے۔ اپوزیشن قاعدہ 267 کے تحت طویل بحث کا مطالبہ کر رہی ہے، جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف قاعدہ 176 کے تحت مختصر بحث پر راضی ہو گی۔
دوسری جانب اپوزیشن نے 24جولائی کو صبح 10 بجے پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے فلور لیڈروں کی اہم میٹنگ بلائی ہے۔ پیر کو صبح 10.30 بجے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ ہاؤس میں گاندھی مجسمہ کے سامنے احتجاج کریں گے اور وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کریں گے۔ جمعرات اور جمعہ کو بھی منی پور کے معاملے پر ہنگامہ آرائی سے پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہوئی۔
اصول 176اور 267میں کیا فرق ہے؟اگر 176کے تحت اس پر بحث ہو گی تو اس پر مختصر دورانیے یعنی تقریباً ڈھائی گھنٹے بحث ہو گی۔ بحث کے بعد کوئی ووٹنگ نہیں ہوتی اور صرف متعلقہ وزیر اس پر جواب دیتے ہیں۔ دوسری طرف جب رول 267کے تحت بحث ہوتی ہے تو ایوان کا باقی کام ملتوی کر دیا جاتا ہے اور صرف ایک مسئلہ پر بحث ہوتی رہتی ہے۔ اسی وقت، بحث کے اختتام کے بعد، ووٹنگ بھی اختتام پر ہوتی ہے۔