جامعہ اکل کوا میں جشن آزادی کے موقع پر 15ہزار طلبہ نے قومی پرچم کو سلامی دی
اکل کوا15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)ملک کے مسلمان تعلیم، تنظیم اور تجارت کے ذریعے ہی اپنے حالات کو بدل سکتے ہیں اور ملک کو ترقی کی شاہراہوں پر ڈال سکتے ہیں ۔ بھارت کی آزادی کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا میں رسم پرچم کشائی کے بعد رئیس الجامعہ حضرت مولانا غلام محمد صاحب وستانوی نے یہ پیغام دیا ۔ اس موقع پر جمع پندرہ ہزار سے زائد طالبانِ علم سے خطاب کرتے ہوئے حضرت وستانوی نے یہ بھی کہا کہ ملک کی آزادی کیلئے علمائے کرام کی پیش قدمی اور قربانیاں لازوال اور ناقابلِ فراموش ہیں ۔ تاریخ کے ان سنہری اوراق کو آج ذہنوں میں محفوظ کرلینے کی ضروت ہے تاکہ نئی نسل تک اس ورثہ کو ہم منتقل کرسکیں ۔ جامعہ کے اس عظیم اور تاریخی جشن آزادی میں برادرانِ وطن کی بڑی تعداد نے شرکت کرتے ہوئے سفید کرتا پائجامہ اور ٹوپی میں ملبوس مدرسہ کے پندرہ ہزار بچوں کے جذبۂ حب الوطنی کو دادِ تحسین پیش کیا۔ علاقہ کی مقتدر و با اثر سیاسی ، سماجی شخصیات میں انسپکٹر اے ٹی پوار، انوسیا پاڑوی ، وشواس مراٹھے ، راجیو پاٹل ، سندیپ مراٹھے ، لطیف انصاری ، موسیٰ مکرانی وغیرہ موجو دتھے جامعہ کی طرف سے تمام مہمانوں کا خیر مقدم حافظ اسحاق وستانوی ،ڈاکٹر اخلاق شیخ ، اکبر پٹیل اورمولوی حذیفہ وستانوی وغیرہ نے کیا۔ محمد سلیمان راندیرا اور شیخ الحدیث مولانا رضوان سلمانی سمیت جامعہ کی تمام یونٹ ہیڈس کی موجودگی رہی ۔طلبہ کی جانب سے تحریک آزادی میں مسلمانوں کے کردار و قربانیوں کے عنوانات پر اُردو، انگریزی ، مراٹھی میں تقاریر ، مکالمے اور حب الوطنی کے ترانے دل کو چھو لینے والے موثر انداز میں پیش کئے گئے ۔ ناظم تعلیمات مولانا حذیفہ وستانوی نے اس موقع پر خطاب میں یہ اُمید جتائی کہ ہمارے علمائے کرام نے جس عظیم مقصد کو لے کر دو سو سال تک جدوجہدکی اور قربانیاں دیں انشاء اللہ وہ رائیگاں نہ جائے گی ۔ آپ نے کہا کہ ملک کے مسلمان آپسی اتحاد و اتفاق کے ساتھ ترقی کے زینے طئے کرسکتے ہیں ۔امتیاز خلیل نے اس موقع پراپنی گفتگو میں یہ دعویٰ کیا کہ ملک کی کوئی ایسی درسگاہ نہیں ہوگی جہاں بیک وقت پندرہ ہزار طلبہ قومی ترانہ گاتے ہیں اور قومی پرچم کو سلامی پیش کرتے ہیں لیکن متعصب میڈیا کو ایسے مناظرمیں دلچسپی نہیں ۔ملک کے کسی کونے میں اگر کوئی ایک مولوی ذاتی طور پر منفی رائے دیتا ہے تو اسے ملک کے20کروڑمسلمانوں کا نظریہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ تقسیم وطن کے وقت یہ مدرسے اور یہ علماء ہی تھے جنھوں نے ہمارے اجداد کے پیروں میں بیڑیاں ڈال دی تھیں اور آج 70سال کے بعد بھارت کا مسلمان فخر کے ساتھ یہ کہہ رہاہے کہ ہمارے اسلاف کا فیصلہ غلط نہیں تھا۔ ناظم تقریب مولاناعبدالرحیم فلاحی نے کہا کہ ملک کی آزاد ی کیلئے دو لاکھ مسلمانوں اور 51ہزار علمائے کرام نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے ۔جو لوگ آج تاریخ کومسخ کررہے ہیں وہ خود مٹ جائیں گے ۔ ہماری قربانیوں کی تاریخ باقی رہے گی ۔ تمام شہدائے آزادی اور مجاہدین کیلئے ایصال ثواب کے اہتمام پر جشن آزادی کی یہ خوبصورت تقریب اختتام پذیر ہوئی۔