بھٹکل 6/ اگست (ایس او نیوز) مرکزی حکومت اور بی جے پی کی حکمرانی والی ریاستی حکومتیں مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں کونشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر تشدد کو ہوا دے رہی ہیں یہ بے حد تشویش کی بات ہے۔ ڈبل انجن سرکار ہریانہ اور منی پور میں فسادات پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہیں، ملک میں نفرت کا ماحول بنایا جا رہا ہے۔ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے ملک کے اس طرح کے حالات پرسخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
تنظیم کے جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے پریس ریلیز میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بلاتفریق ذات پات، غنڈوں اور فسادیوں کے خلاف فوری طور پر سخت کارروائی کی جائے۔ پریس ریلیز میں ہریانہ کے نوح میں کرفیو کے باوجود دو مساجد پرحملہ کرنے اور مسجد کے امام کو شہید کرنے کی واردات پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس طرح کے حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے اورکہا گیا ہے کہ اس طرح کے مذہبی مقامات کو نذر آتش کرنے کا یہ بزدلانہ عمل ہمارے متنوع معاشرے میں تفرقہ اور فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی واضح کوشش ہے۔ پریس ریلیز کے مطابق ہماری قوم میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور نفرت کو دور کرنے اور اسےختم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ ایسی حرکتیں نہ صرف مذہبی آزادی اور بقائے باہمی کے اصولوں کو نقصان پہنچاتی ہیں بلکہ ہمارے تکثیری معاشرے کے تانے بانے کو بھی خطرے میں ڈالتی ہیں۔ ہم حکومت ہند سے فوری اورفیصلہ کن اقدام کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔
پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈبل انجن والی بی جے پی سرکار ہریانہ اور منی پور میں فسادات پر قابو پانے میں ناکام ہوچکی ہیں۔ ملک کی اقلیتوں کے خلاف نفرت کا بازار ایسا گرم کیا گیا ہے کہ جے پور۔ ممبئی سینٹرل سوپر فاسٹ ایکسپریس ٹرین میں ریلوے پولس کا ایک کانسٹیبل اپنے ہی آفسرپر گولی چلاکر اُسے موت کے گھاٹ اُتارنے کے بعد تین مسلمانوں کو بھی گولی مار کر شہید کردیا ہے یہ واقعہ اسلامو فوبیا کا واضح ثبوت ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مرکزی حکومت نفرت کی سیاست کھیل رہی ہے۔ ہم اس واقعہ کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ اورمطالبہ کرتے ہیں کہ ملک کے عوام کو ظلم، زیادتی، غنڈہ گردانہ واقعات اور نفرت پھیلانے والے کاموں سے بچایا جائے، تنظیم جنرل سکریٹری عبدالرقیب ایم جے ندوی نے کہا کہ ہمیں ایک ایسا معاشرہ چاہیے جہاں ہر کسی کے ساتھ مذہب یا عقائد سے قطع نظرعزت و احترام سے پیش آئے۔"
تنظیم نے منی پور کی اقلیتی کوکی برادری کی لڑکیوں کو برہنہ کرنے اور ملک کی انسانیت کو نیلام کرنے کے نظام کی بھی شدید مذمت کی اور کہا کہ بھلے ہی بی جے پی کی حکومت والی دو نوںریاستیں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ میں جل رہی ہیں لیکن حکومتوں کو کم از کم اپنی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے اورمتعلقہ ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کو فوری طور پر استعفیٰ دینا چاہئے۔