نئی دہلی، 26؍اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ ملک میں ’رام راج ‘کے قیام کا فیصلہ نہیں دے سکتا اور محدود صلاحیت کی وجہ سے چاہ کر بھی بہت سی چیزیں نہیں کر سکتا۔چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے کہاکہ کیا آپ سوچتے ہیں کہ ہماری ہدایات سے سب کچھ ہو جائے گا؟ کیا آپ(درخواست گزار)سوچتے ہیں کہ ہم کوئی حکم جاری کریں گے کہ ملک میں کوئی بدعنوانی نہ کریں گے اور ساری بدعنوانی ختم ہو جائے گی ؟ کیا ہمیں ہدایت دینی چاہیے کہ ملک میں ’رام راج ‘ہونا چاہیے ؟ ایسا نہیں ہو سکتا۔بنچ ملک بھر میں سڑکوں اور پیدل راستوں پر قبضے کے مسئلے پر دائر درخواست پر سماعت کر رہی تھی۔بنچ میں جسٹس اے ایم کھانولکر اور جسٹس ڈی وائی چند رچوڑ بھی ہیں۔بنچ نے کہاکہ ہم بہت سی چیزیں کرنا چاہتے ہیں، لیکن کر نہیں سکتے۔چیزوں کو کرنے کی ہماری صلاحیت محدود ہے، یہ ایک مسئلہ ہے۔عدالت عظمی کا یہ تبصرہ اس وقت آیا جب درخواست گزار ایک این جی او نے بنچ سے اپنی درخواست کو مسترد نہیں کرنے کی اپیل کی اور کہاکہ اگر یہ عدالت کوئی کارروائی نہیں کرے گی اور کوئی حکم جاری نہیں کرے گی تو پھر کون کرے گا؟۔