ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / ملک میں خلفشار کی جڑ آر ایس ایس پر لگے پابندی: اشفاق رحمن

ملک میں خلفشار کی جڑ آر ایس ایس پر لگے پابندی: اشفاق رحمن

Sat, 13 Aug 2016 18:34:59    S.O. News Service

پٹنہ،13اگست؍ (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) جنتا دل راشٹروادی نے خلفشار کی جڑ آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ سنگھ پریوار بھارت کے سیکولراور جمہوری نظام کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کے درپے ہے۔ مذکورہ تنظیموں کی وجہ سے ہی ملک کا امن وامان درہم برہم اور ماحول خراب ہوگیا ہے۔ جے ڈی آر کے قومی کنوینر اور جواں سال مسلم رہنما اشفاق رحمن کہتے ہیں کہ گؤ رکشکوں پر نریندر مودی کا غصہ صرف دکھاوا ہے۔ وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم ہیں جو گؤ رکشا کے نام پر دہشت گردی پھیلا رہے آتنک وادیوں سے گڑگڑارہے ہیں۔ وہ آخر کس سے انصاف کی امید کرر ہے ہیں۔وہ خود وزیراعظم نہیں، انہیں راج دھرم نبھانا چاہئے اور گڑگڑانے کے بجائے آتنک واد پر آمادہ لوگوں کے خلاف سخت سے سخت کارروائی کی جانی چاہئے لیکن وہ ایسا نہیں کرسکتے کیونکہ گجرات جب فساد کی آگ میں جل رہا تھا اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے مودی سے راج دھرم نبھانے کو کہا تھا۔ جب اس وقت راج دھرم نہیں نبھا سکے تو اب ان سے راج دھرم کی امید کرنا بے سود ہے۔ سب جانتے ہیں کہ گؤ رکشکوں کو آر ایس ایس کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ظاہر سی بات ہے سب سے پہلے آر ایس ایس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مگر حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ خود ساختہ جماعت اور ان کے رہنماؤں نے بھی کبھی شدت سے آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ نہیں کیا۔ وجہ ہے کہ آر ایس ایس کو کھاد پانی دے کر خود ساختہ جماعتیں اپنی سیاست کی روٹی سینکتی رہی ہیں۔ آج پورے ملک میں مسلمانوں کے خلاف ہوا بہہ رہی ہے اور اس ہوا کو موڑنے یا تھامنے کی کوئی ایماندار کوشش کہیں سے ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ مرکزکی بھاجپا قیادت والی حکومت کی مار سے ملک کے مسلمان بے حال تو ہیں ہی خود ساختہ سیکولر قیادت والی ریاستی حکومتیں بھی مسلمانوں کے تئیں ایماندار نہیں نظر آرہی ہیں۔ اردو اساتذہ ، داروغہ ، ٹرانسلیٹر کی بحالی پر روک لگی ہوئی ہے۔ ان عہدوں پر بحالیاں نہیں ہورہی ہیں۔ 27ہزار اردو اساتذہ اپنے مطالبات کو لے کر سڑک پر ہیں۔ مگر حکومت کو ان کی پریشانیو ں سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ دراصل مسلمانوں کی مردہ دلی بھی اس کے لیے جوابدہ ہے۔ہرمصیبت اورپریشانیوں کو سہنے کا مسلمان عادی ہوگئے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے ظلم و ستم کا پہاڑ بے حس قوم پر نہیں ٹوٹے گا تو پھر کس پر! یہی وجہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم دلتوں پر ہورہے ظلم کا درد محسوس تو کرتا ہے مگر مسلمانوں پر ہورہی اذیت انہیں دکھائی نہیں پڑتی۔اس حالات کو کوئی اور نہیں ہم سب کو مل کر بدلنا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت تبدیل نہیں کرتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت کو بدلنا نہیں چاہتی۔ 


Share: