ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ملکی خبریں / مسلمانانِ ہند اپنے پرسنل لاء کی روشنی میں اپنے عائلی مسائل حل کرائیں

مسلمانانِ ہند اپنے پرسنل لاء کی روشنی میں اپنے عائلی مسائل حل کرائیں

Tue, 09 Aug 2016 18:15:33    S.O. News Service

آل انڈیا امامس کونسل کی جانب سے منعقد ’’مقاصد شرعیہ نیشنل کانفرنس‘‘ سے اہم شخصیات کا خطاب
نئی دہلی،9 ؍اگست(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )آل انڈیا امامس کونسل کی جانب سے دو روزہ ’’مقاصد شریعہ نیشنل کانفرنس‘‘ منعقد کی گئی جس پہلے دن مخصوص علماء کرام سے ملک کے موجودہ مسائل پر بحث و مباحثہ اور گفت و شنید ہوئی۔ دوسرے دن غالب انسٹی ٹیوٹ ، ماتا سندری روڈ، نئی دہلی میں علماء و مفتیان کرام کے لیے عمومی کانفرنس منعقد کی گئی جس میں پورے ہندستان کے دو سو سے زائد علماء اور مفتیان کرام نے حصہ لیا۔ کانفرنس میں نکاح، طلاق، خلع، وراثت وغیرہ مسائل پر شریعت کی تفصیلی رہنمائی پیش کی گئی۔ پروگرام سے مولاناخالد سیف اللہ رحمانی (حیدر آباد)، مولانا عتیق احمد بستوی (لکھنوء)، مفتی مکرم (دہلی)، مولانا اصغر علی امام مہدی (دہلی) ، مولانا عثمان بیگ رشادی (بنگلور)، مولانا عبد الرحمن باقوی (کیرلا) اور ڈاکٹر ظفر الاسلام خان صاحب نے خطاب کیا۔دوروزہ مقاصد شریعہ نیشنل کانفرنس میں شریک تمام علماء و مفتیانِ کرام کی اتفاقِ رائے درج ذیل ’’قرار دادیں‘‘ پاس کیں۔مسلمان اپنے پرسنل لا کی روشنی میں اپنے عائلی مسائل حل کریں۔ اس کے لیے دارالقضاء اور دارالاصلاح کو بااثر بنائیں۔ علماء و مفتیانِ کرام سے مسائل پوچھ کر عمل کریں اور علماء کرام ملت اسلامیہ کی صحیح رہنمائی کریں۔ ملک بھر میں دلتوں، آدی واسیوں اور مسلمانوں کے اوپر ہو رہے مظالم کو ’’یہ کانفرنس‘‘ منظم حملہ قرار دیتی ہے اور اس کی مذمت کرتی ہے، جانور کے تاجروں کو گوبر کھلانے، چمڑا نکالنے والے دلتوں کی پٹائی کرنے اور مسلم خواتین پر ’’گؤ ماس‘‘ کے بہانے ظلم ڈھانے والوں کے خلاف حکومت سے سخت کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔’’بابری مسجد‘‘ اپنی شہادت پر ۲۴؍ سال گزرنے کے بعد بھی انصاف کی منتظر ہے ۔ اس کے ساتھ انصاف یہی ہے کہ اسے دوبارہ اُسی جگہ تعمیر کر دی جائے۔ بابری مسجد کی باز آباد کاری ملک میں سیکولرزم کی بحالی کی پہچان ہوگی۔ وشو ہندو پریشد اور آر ایس ایس کے غیر قانونی دست درازیوں کو روکا جائے۔ اور ان کی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تمام عناصر کو قرارِ واقعی سزا دی جائے‘‘۔آل انڈیا امامس کونسل کی نیشنل کانفرنس بڑی شدت کے ساتھ یہ محسوس کر رہی ہے کہ ملک میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد سے مسلسل مسلمانوں میں رنگ ، نسل، خاندان ، علاقہ ، زبان اور مسلک کے نام پر تفریق پیدا کرنے کی منظم سازش کی جا رہی ہے۔ اس کو بند کیا جائے ، اتحادِ بین المسلمین ہمارا مذہبی فریضہ ہے ، جس میں دخل اندازی ہمیں برداشت نہیں۔کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ’’ریزرویشن‘‘ ناگزیر ضرورت ہے ، جس قوم کو ریزرویشن ملا وہ آج ترقی کی اونچی منزل پر کھڑی ہے۔اس لیے یہ کانفرنس مرکزی اور صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ مسلمانوں کو پسماندگی کی بنیاد پر آبادی کے تناسب سے ریزرویشن مہیا کرے۔آئین ہند کی روشنی میں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہبی’’ پرسنل لا‘‘ پر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے ؛ مگر فسطائی عناصر بڑی چابک دستی کے ساتھ مسلمانوں اور دلتوں سے یہ حق چھین لینا چاہتے ہیں ۔ملک میں ’’ہندو کوڈ‘‘ کے نفاذ کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم سواسو کروڑہندستانی اس خواب کو کبھی بھی پورا نہیں ہونے دیں گے۔ کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کے پرسنل لا میں مداخلت غیر آئینی اور قانونی جرم ہے۔ اس لیے آل انڈیا امامس کونسل کی دو روزہ مقاصد شریعہ کانفرنس یہ مطالبہ کرتی ہے کہ : کسی بھی طبقہ کے مذہبی امورمیں مداخلت بندکیا جائے اورپرسنل لا میں دخل اندازی کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی کی جائے تاکہ قوم کے اندر اطمینان و اعتماد بحال ہو سکے۔


Share: