بھٹکل، 21؍دسمبر (ایس او نیوز) اسمبلی الیکشن 2023 کے تیاریوں میں مصروف بی جے پی نے شمالی کینرا کو اپنے اہم نشانے پر رکھا ہے جس کی وجہ سے اس مرتبہ مرڈیشور کے آر این ایس ہال میں پارٹی کے ریاستی عہدیداروں اور لیڈروں کا اجلاس منعقد کیا گیا ۔
ریاستی صدر نلین کمار نے اپنے افتتاحی خطاب اور اس کے بعد اخباری نمائندوں سے بات چیت کے دوران زیادہ تر کانگریس پارٹی کی پر تنقید اور منفی تبصرہ کرنے پر ہی زور دیا ، لیکن اشاروں میں ہی موجودہ اراکین اسمبلی کو تھوڑی سی تسلی دیتے ہوئے کہا پارٹی نے امیدواروں کو بدلنے کے تعلق سے ابھی سوچا بھی نہیں ہے ۔
ضلع شمالی کینرا کے تین ارکین اسمبلی روپالی نائک، دینکر شیٹی اور سنیل نائک کی موجودگی میں خطاب کرتے ہوئے نلین کمار کٹیل نے ان لوگوں کو انتخابی تیاریوں میں سرگرم ہوجانے کی ہدایت دی ۔
ضلع انچارج وزیر کوٹا سرینواس پجاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سماج کے کمزور، پسماندہ اور بدحال افراد کی ترقی اور خوشحالی کے لئے ہمیشہ سرگرم رہتی ہے ۔ کانگریس پارٹی نے کمزور طبقات کی بہتری اور فلاح و بہبود کے نام پر اقتدار حاصل کیا مگر زبانی جمع خرچ کے سوا اس نے ان طبقات کی ترقی کے لئے کچھ بھی نہیں کیا ۔ کانگریس اقتدار کے ذریعہ صرف لوٹ مچائی ۔ اسی وجہ سے گزشتہ اسمبلی الیکشن میں اسے ذلت آمیز شکست سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔
پجاری نے کہا کہ کانگریس ٹیپو جیسے فرقہ پرست کی حامی اور ساورکر کی دیش بھکتی پر سوال اٹھانے والوں کی پارٹی بن گئی ہے ۔ دیش کے مفاد کو پس پشت ڈال کر ووٹ بینک سیاست میں ملوث کانگریس پارٹی اس مرتبہ چاہے جتنی کوشش کرلے ، مگر اسے اقتدار حاصل نہیں ہوگا ۔ کانگریس کی ہندو مخالف پالیسی کو ریاست کے عوام مسترد کرتے آئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس کے لیڈران بی جے پی پر 40% کمیشن جیسے بے بنیاد الزامات لگا رہے ہیں ۔ جب سدارامیا اقتدار پر تھے تو انہوں نے لوک آیوکتہ کو کنارے لگا کر اے سی بی کو تمام اختیارات دے رکھے تھے اور اپنے آپ کو بدعنوانی کے الزامات سے بچا لیا تھا ۔ بی جے پی نے لوک آیوکتہ کو دوبارہ زندہ کیا ہے ۔ اس لئے کانگریسی لیڈران میڈیا میں الزامات لگانے کے بجائے ثبوتوں کے ساتھ بی جے پی کے خلاف لوک آیوکتہ کے پاس شکایت درج کروائیں ۔ ورنہ جھوٹے الزامات لگانے کے لئے معافی مانگیں ۔
بی جے پی ریاستی صدر نلین کمار کٹیل نے کانگریس پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی ہوش و ہواس اور عقل کے اعتبار سے دیوالیہ ہوگئی ہے ۔ انہیں کس معاملہ میں کس کی حمایت کرنا ہے اس کا شعور بھی نہیں رہا ہے ۔ کانگریسی لیڈران بھی فرقہ پرست ٹیپو کی طرح ہندو مخالفین میں تبدیل ہوگئے ہیں ۔ کوکر بلاسٹ کے ذریعہ سیکڑوں ہندووں کو مار ڈالنے کی کوشش کرنے والے دہشت گرد کی حمایت کرنے کی سطح تک پہنچ گئے ہیں ۔ ایسے میں خود عوام کو سوچنا ہوگا کہ اس پارٹی سے ہندووں کو کس قسم کا تحففظ مل سکتا ہے ۔
ریاستی عہدیداروں کے اس اجلاس میں کئی سینئر لیڈروں نے شرکت کی اور الیکشن لڑنے کے لئے جو نقشہ بنایا گیا ہے اس کی تفصیلات کے ساتھ کن مسائل اور اہم امور پر کس طرح کی پالیسی اور رویہ اپنانا چاہیے اس پر تفصیلی بات چیت کی گئی ۔ ریاستی صدر نے اس مرتبہ الیکشن میں 150 سے زائد سیٹیں جیتنے کا تیقن دلاتے ہوئے اراکین اسمبلی اور کارکنان کو الیکشن جیتنے کے تعلق سے ہدایات اور مشورے دئے ۔