نئی دہلی،12/فروری (آئی این ایس انڈیا) مدھیہ پردیش کے امریا ضلع میں افسر سنجے کمار نے اقتصادی تنگی کی وجہ سے کرایہ کے گھر میں پھانسی لگا کر خود کشی کر لی۔ خاندان کے مطابق وہ مسلسل نوکری چھوٹنے کاخوف اور بچوں کے مستقبل کو لے کر پریشان تھے۔ سنجے کا ایک سوسائڈ نوٹ، جسے بعد میں پولیس نے برآمد کیا اس میں مبینہ طور پر لکھا ہے کہ وہ اپنی زندگی خود ختم کر رہے ہیں، اس کے لیے کوئی اور ذمہ دار نہیں ہے۔نوٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ ان کے بھائی چندن کو کالج کی نوکری لینی چاہئے اور پروویڈنٹ فنڈ کا پیسہ بیوہ لالسا کو دیا جانا چاہئے۔
ان کی بیوی لالسا نے بتایا کہ انہیں چھ ماہ سے سیلری نہیں ملی تھی۔وہ کہتے تھے کہ اب میرے بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا۔حکومت نے ہمارے پیٹ میں لات مار دیا ہے۔ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔بچہ 10 ویں میں پڑھتا ہے، اس کی فیس نہیں بھر پائے ہیں۔ اب میرے سامنے کوئی راستہ نہیں ہے۔لالسا نے پوچھا کہ وزیر میرے پاس آئیں گے یا پھر میں وزیر جی کے پاس شوہر کی مٹی لے کر جاؤں ؟ بیوی لالسا نے بتایا کہ اُس کے سامنے بھی اب تینوں بچوں کے ساتھ شوہر کی طرح خود کشی کر نا ہے۔ لالسا بھی اچانک بلڈ پریشر بڑھنے سے اسپتال میں زیر علاج ہے۔
اس معاملے میں سابق وزیر اعلی شیوراج سنگھ چوہان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مریا کے افسر سنجے کمار کی خود کشی کے لئے اگر کوئی ذمہ دار ہے، تو وہ ہے مدھیہ پردیش کی نکمی حکومت۔اس بے سہارا بیوہ کو کانگریس حکومت کیا جواب دے گی؟ معصوم بچوں کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ حکمراں کانگریس کے ترجمان نریندر سلوجا نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ امریا ضلع کے چدیا حکومت کالج میں کے کھیل افسر سنجے کمار کی موت المناک خبر ہے۔ان کے المناک موت پر ہم تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔افسوس اپوزیشن لیڈر گوپال بھارگو ایسے حساس موضوعات پر بھی شرمناک سیاست کر رہے ہیں۔جو معلومات موصول ہوئی اس کے مطابق ان کی موت سے پہلے لکھے گئے خط میں کہیں بھی اس بات کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اگر ان کی جان دینے کے پیچھے اس کی وجہ ہوتی تو وہ اس کا ذکر اس خط میں وہ ضرور کرتے۔بی جے پی ایسے المناک واقعہ کوبھی سیاست کا موضوع بنا رہی ہے۔