مودی سرکارسے واجپئی کے راستے پرچلنے کامطالبہ
سرینگر15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وادی کشمیر میں مسلسل38ویں دن بنے ہوئے ہنگامہ خیز حالات کے درمیان وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے مظاہروں میں شامل نوجوانوں سے پرجوش اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان عناصر سے الجھن میں نہیں ہو جو کشمیرکو ہمیشہ جلتا رہنے دینا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل نکالنے کیلئے بات چیت ہی واحد راستہ ہے۔یومِ آزادی کے اپنے پہلے خطاب میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیر کو ایک اور شام یا افغانستان نہیں بننے دینا چاہئے جہاں عدم استحکام ہے اور جہاں زندگی مکمل طورپرغیر محفوظ ہے۔انہوں نے عوام سے کہاکہ وہ انہیں اپنی ان منصوبوں اور پروگراموں پر کام کرنے کیلئے وقت دیں جوانہوں نے ریاست کے امن اور ترقی کیلئے تیار ہیں۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر سے خصوصی ریاست کا درجہ چھیننے جیسے پروپیگنڈے پوری طرح غلط ہیں اور ان سے ان کو الجھانا نہیں ہونا چاہئے۔محبوبہ مفتی نے آج امید ظاہر کی کہ ریاست کے مسائل کے حل کیلئے اٹل بہاری واجپئی کی طرف سے شروع کئے گئے عمل کو وزیر اعظم نریندر مودی ضرور پورا کریں گے۔انہوں نے ان مسائل کے رہنے کیلئے جواہر لال نہرو کی حکومت سے لے کر بعد کے تمام مرکز حکومتوں کوالزام دیا۔حزب المجاہدین کے دہشت گرد برہان وانی کے مارے جانے کے بعد ماہ بھر سے ہنگامہ خیز حالات کی گواہ بنی وادی کو لے کر محبوبہ نے کہا کہ بھارت جیسی’’عظیم‘‘جمہوریت میں کوئی بھی حل بات چیت کے ذریعے ہی نکل سکتا ہے۔آٹھ جولائی کو تصادم میں وانی کے مارے جانے کے سلسلے میں محبوبہ نے کہاکہ ایسا تو نہیں ہے کہ کشمیر میں پہلی بار سامنا ہوا ہو۔مظاہروں میں بچوں کو شامل نہیں ہونا چاہئے۔انہیں اسکول اور کالج جانا چاہئے۔بڑے مسئلے کا حل نکالنا بچوں کی ذمہ داری نہیں ہے۔والدین کو اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ ان کے بچے ایسی جگہ نہیں جائیں جہاں ان کی جان کو خطرہ ہو۔