مقبوضہ بیت المقدس15اگست(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں سنہ1967ء کی جنگ کے دوران جبراً نکالے گئے فلسطینیوں کی اراضی پر یہودی کالونیوں کے قیام کی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکومت نے فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پر یہودی بستیوں کی تعمیر کی سخت مخالفت کی ہے۔اسرائیل کے عبرانی اخبارہارٹز نے ایک تفصیلی رپورٹ میں بتایاہے کہ صہیونی حکومت عمونہ نامی یہودی کالونی کے تمام مکانات فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پر منتقل کرنے کے لیے کوشاں ہے مگر امریکی انتظامیہ کی طرف سے اس کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔اخبار رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واشنگٹن نے عمونہیہودی کالونی کو فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پرمنتقل کرنے کے اسرائیلی فیصلے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اس پر احتجاج کیا ہے۔امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک ایسے وقت میں عمونہ یہودی کالونی کو فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پر منتقل کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں جب اس حوالے سے امریکا اور اسرائیل کے درمیان بات چیت بھی جاری ہے۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پر یہودی بستی کی تعمیر اراضی کو دانستہ طورپر غصب کرنے کی کوشش ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2009ء میں موجودہ وزیراعظم نیتن یاھو نے بار ایلن یونیورسٹی سے خطاب کرتیہوئے کہاتھا کہ وہ عمونہ یہودی کالونی کو فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پر منتقل نہیں کریں گے کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کا عمل آگے بڑھایا جائے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کی بھی حمایت کی تھی، تاہم بعد میں صہیونی وزیراعظم نے انتہا پسند یہودیوں کے دباؤپرعمونہ کالونی کے مکانات غرب اردن میں فلسطینیوں کی متروکہ اراضی پر منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔